23 دسمبر, 2025

    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    کھلی ہے آنکھ حقیقت کی انتقال کے بعد

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    29 جون, 2020

    کسی عشق و رزق کے جال میں نہیں آئے گا

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    آج کل سے کچھ نہ طوفاں زا ہے چشم گریہ ناک

    میر تقی میر کی ایک غزل
    18 ستمبر, 2022

    مجھ کو کہانیاں نہ سنا شہر کو بچا

    تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل
    4 مئی, 2020

    کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے

    عابِد ملک کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 مارچ, 2025

    یہاں پڑاؤ بہت دیر تک رہا غم کا

    ایک اردو غزل از ممتاز گورمانی
    30 جون, 2020

    جانے میں قتل گہ سے ترا اختیار ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    دل کے نالوں سے جگر دکھنے لگ

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    4 اپریل, 2020

    ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں

    رینو نیّرؔ کی اردو غزل
    25 اپریل, 2020

    سامنے جی سنبھال کر رکھنا

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    11 نومبر, 2025

    ذرا سی باپ مِرا کیا زمین چھوڑ گیا

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    در بدر ہو کے جو در سوچ لیا

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    جھگڑنا کاہے کا میرے بھائی پڑی رہے گی

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button