26 نومبر, 2025

    روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
    15 اپریل, 2016

    کسی چراغ کی لَو کی طرح بکھر گیا میں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2024

    اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے

    امید فاضلی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    سب سرگذشت سن چکے اب چپکے ہو رہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 اپریل, 2020

    ٹُوٹنے پر کوئی آئے تو پھر ایسا ٹُوٹے

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    17 نومبر, 2019

    اب وہ گھر اک ویرانہ تھا

    جون ایلیا کی ایک غزل
    18 مارچ, 2026

    سینے میں کوئی آگ کا گولا ہے

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں

    ایک اردو غزل از عدیم ہاشمی
    26 جون, 2020

    تجھ بن اے نوبہار کے مانند

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 جنوری, 2018

    مرے لب پہ کوئی گلہ نہیں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    14 نومبر, 2019

    نیام ہونا بھی تلوار بن کے رہنا بھی

    سرفراز آرش کی ایک غزل
    28 مئی, 2020

    یوں دل میں تری یاد اتر آتی ہے جیسے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    31 دسمبر, 2021

    قصہ ہست و بود سے آگے نکل گیا

    ایک اردو غزل از سلیم فائز
    14 ستمبر, 2025

    ہجر کا رنج گھٹے ایسی دعا جانتا ہے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button