20 فروری, 2026

    جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    24 اپریل, 2020

    کیسے کیسے خواب دیکھے، دربدر کیسے ہوئے

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    11 ستمبر, 2020

    اے رنجِ آگہی،کوئی چارہ تو ہو گا نا

    صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 اکتوبر, 2025

    جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    1 نومبر, 2025

    سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    1 جنوری, 2023

    دسترس نہیں جس پر وہ جہاں خریدا ہے

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    16 جون, 2024

    محو حیرت ہوں کہ

    شبیر احرام کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    جہاں ہوتے کسی چشم ستارہ یاب میں ہوتے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    رہتے تھے ہم وے آٹھ پہر یا تو پاس پاس

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 جون, 2020

    بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 اکتوبر, 2025

    جب اس زلف کی بات چلی

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے

    ایک اردو غزل از احسان دانش

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button