اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

اس کی آنکھوں کا کوئی خواب نہیں ہو پائے

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

اس کی آنکھوں کا کوئی خواب نہیں ہو پائے
ہنس تھے واقف تالاب نہیں ہو پائے

گریۂ غم کی حرارت سے پگھلتے ہوئے اشک
سرد لہجوں سے بھی برفاب نہیں ہو پائے

تم نے جی بھر کے محبت کی عنایت کی تھی
دشت پھر دشت تھے سیراب نہیں ہو پائے

ہجر نے طور طریقے تو سکھائے غم کے
ہم مگر مائل آداب نہیں ہو پائے

ایک دن تجھ کو اچانک یہ خبر آئے گی
تیرے بیمار شفا یاب نہیں ہو پائے

مجھ پہ کیا آتا گل سرخ کا موسم کوملؔ
جب مرے پیڑ ہی شاداب نہیں ہو پائے

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button