آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

میں سوچتی ہوں کہ

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

میں سوچتی ہوں کہ اے رب فرات کیوں نہیں کی
کشادہ ہم پہ زمین حیات کیوں نہیں کی

کسی نے پوچھا ہے گھبرا کے جانے والوں سے
بسر سرائے میں اک اور رات کیوں نہیں کی

بس اتنی بات پہ منصف سزائیں دیتا رہا
قبول شہر کے لوگوں نے مات کیوں نہیں کی

بندھے تھے ہاتھ ہمارے سو ہم سے مت پوچھو
اٹھا کے ہاتھ دعائے نجات کیوں نہیں کی

مرا تو زخم ہی ناسور بن گیا تو نے
علاج کرتے ہوئے احتیاط کیوں نہیں کی

مرے قبیلے کے سردار وہ منافق ہیں
زبان کاٹ کے کہتے ہیں بات کیوں نہیں کی

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کومل جوئیہ

اصلی نام۔۔۔۔ شازیہ خورشید - قلمی نام۔۔۔۔ کومل جوئیہ - جائے پیدائش۔۔۔۔۔کبیروالا- سکونت۔۔۔۔۔ملتان- تعلیم ۔۔۔۔۔ایم۔اے سیاسیات ، بی ایس اردو ، بی ایڈ- تصانیف ۔۔۔۔۔۔غزل کی تین کتب- اول۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے تجھ کو کھو دوں گی 2013- دوم ۔۔۔۔۔ہاتھ پہ آئی دستک 2023- سوم ۔۔۔۔۔دھوپ نہاتی بارش 2024-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button