میں سوچتی ہوں کہ اے رب فرات کیوں نہیں کی
کشادہ ہم پہ زمین حیات کیوں نہیں کی
کسی نے پوچھا ہے گھبرا کے جانے والوں سے
بسر سرائے میں اک اور رات کیوں نہیں کی
بس اتنی بات پہ منصف سزائیں دیتا رہا
قبول شہر کے لوگوں نے مات کیوں نہیں کی
بندھے تھے ہاتھ ہمارے سو ہم سے مت پوچھو
اٹھا کے ہاتھ دعائے نجات کیوں نہیں کی
مرا تو زخم ہی ناسور بن گیا تو نے
علاج کرتے ہوئے احتیاط کیوں نہیں کی
مرے قبیلے کے سردار وہ منافق ہیں
زبان کاٹ کے کہتے ہیں بات کیوں نہیں کی
کومل جوئیہ








