اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت
لوٹ جائیں گے اسی گریۂ بیداد سمیت

جیسے ہم کار جہاں کے لئے موزوں ہی نہ ہوں
ہم کو لوٹا دیا جاتا رہا اسناد سمیت

لوگ چوپال میں بیٹھے تھے مگر ساکت تھے
ہم بھی خاموش رہے زخم کی روداد سمیت

جوتشی کوئی الٹ پھیر کا حل ہے کہ نہیں
سب ستارے ہیں نحوست بھرے اعداد سمیت

میں نے ہی بھوک کو خیرات پہ برتر رکھا
لوگ آئے تھے مری سمت بھی امداد سمیت

میں تو جو دیکھ رہی ہوں وہی بولوں گی سدا
قید کر دیجئے مجھ کو لب آزاد سمیت

میں نے کس جبر میں کاٹی ہے یہ پسماندہ حیات
مجھ کو کوئی بھی نہ سمجھا مری اولاد سمیت

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button