26 جون, 2020

    بے طاقتی میں تو تو اے میر مر رہے گا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    3 دسمبر, 2019

    مِل جائے مے

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    13 جنوری, 2026

    ذہن سے دل کا بار اترا ہے

    ابن صفی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    30 جنوری, 2020

    بجا ترکِ وفا کی

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    چکلے

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    11 جنوری, 2026

    یہ اب جو میری زباں پر تمہارا نام نہیں

    امن شہزادی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    5 اکتوبر, 2025

    اُن کی گفتار کو سمجھتے ہیں

    بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو غزل
    26 ستمبر, 2025

    تجھ سے کہہ جو دیا

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2020

    دیا ہے دل اگر اُس کو ، بشر ہے

    ایک اردو غزل از مرزا غالب
    25 جنوری, 2020

    وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    29 دسمبر, 2025

    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2025

    لوگ تو لوگ ہیں لوگوں کی طرح دیکھتے ہیں

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2021

    اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے

    ایک اردو غزل از شبیرنازش

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button