اردو غزلیاتایوب خاورشعر و شاعری

چار شعر

اپنے پروں کے امن کی نازک پناہ میں
بندوق کیا چلی کہ کبوتر سمٹ گئے

جنگل منافقت کے سروں سے بلند تھے
سچ کے گلاب رُوح کے اندر سمٹ گئے

وہ شاخِ گُل ہوں جس کی رگِ جاں کو دیکھ کر
موسم کی آستینوں میں خنجر سمٹ گئے

کچھ اس قدر تھے نرم، حیا دار اُس کے لب
سوچوں میں میری سانس کو چھو کر سمٹ گئے

ایوب خاور 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button