- Advertisement -

کانفیڈینس

ڈاکٹر الیاس عاجز کا ایک اردو افسانہ

”کانفیڈینس“
میٹرک کے بعد مجھے پاکستان آرمی کے شعبہ اٸیرڈیفنس کی ایک ”جاں باز “نامی ریزرو فورس میں بطور سیکنڈ لیفٹینینٹ زبردستی بھرتی کرلیا گیا ۔مجھے تو اپنے بھرتی ہونےکا پتہ اس دن چلا جب آرمی کے ریگولر این سی اوز ریکروٹ ٹریننگ کے لیے مجھے گھر سے لینے آگٸے خیر اپنی عسکرانہ طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ہم بھی چل دیے۔دو ماہ کی مختصر سی ٹریننگ کے بعد ہمارے کندھوں پر لیفٹینی کے بیجز سج چکے تھے۔اسی اثنا میں ہم نے انٹر کا امتحان پاس کرلیا اور ترقی کی منازل طے کرتےہوٸے کیپٹن بن گٸے ۔یہ سن 1996 کے اکتوبر کے دن تھے۔دن کے وقت گرمی اور رات کو کمبل کے بغیر گزارہ نہیں ۔موسم بے حد خوش گوار ہوچکا تھا۔دھان کی فصل پکنے کے قریب تھی۔سونیمانی رینجز بلوچستان میں اینٹی اٸیرکرافٹ گنز کے فاٸر کے سلسلہ میں جانا پڑگیا ۔براستہ کراچی ہم نارتھ ناظم آباد سے ہوتے ہوٸے بلوچستان میں داخل ہوٸے اور لسبیلہ کے وسیع و عریض جنگلات نما علاقے سے ہوتے ہوٸے بحیرہ عرب کے ساحل پر موجود اینٹی اٸیر کرافٹ گنز رینج سونیمانی رینجز پر جا آف لوڈ ہوٸے۔12.5 اور 14.5 کے علاوہ 40mm اور 37mm ڈبل بیرل کا فاٸر تھا ۔پانچویں دن گنیں ایستادہ تھیں ۔جوان اپنی اپنی گنوں کے ساتھ اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے تھے۔سیفٹی آفیسر اور چیف سیفٹی آفیسرز اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔اچانک چیف سیفٹی آفیسر کی آواز نے ماحول کے سکوت ایک گرج دار آوازسے توڑتے ہوٸے اعلان کیا ۔پلین راٸٹ۔۔۔گن نمبر 25۔۔۔۔۔۔سیفٹی فاٸرررررر۔اعلان کے گونجتے ہی گنرز نے اپنی گن کو ایلیویٹ کیا ۔جیسے ہی ریموٹ کنٹرول ڈراٶن داٸیں طرف سے آسمان پہ نمودار ہوا۔37mm ڈبل بیرل گن نے شعلے اُگلنے شروع کردیے اور ٹریننگ کا علاقہ میدانِ جنگ کی صورت پیش کررہاتھا گنیں آگ اُگل رہی تھیں فضا سرخ رنگ کے گولوں اور گولیوں سے رنگین مناظر پیش کررہی تھی۔ریموٹ کنٹرول انسٹرکٹر بڑے ماہرانہ انداز اور پیشہ ورانہ مہارت سے ڈران کو پچیس گنوں کے نرغے سے بحفاظت نکال کر لے گیا تھا ڈراٶن نےایک ٹرن لیا اور پھرچیف سیفٹی آفیسر کی آواز گونجی ۔پلین لیفٹ۔۔۔۔گن نمبر 1۔۔۔۔۔۔سیفٹی فاٸررررر۔گن نمبر 1 چونکہ ہماری فورس سے متعلقہ تھی فور بیرل ۔حوالدار گُلباز خان نے ڈراٶن کے رینج میں آتے ہی چھوٹے چھوٹے فاٸر شروع کیے ۔پیچھے چیف سیفٹی آفیسر کی آواز گُونج رہی تھی گُڈ ۔۔شاباش گن نمبر 1 گڈ چھوٹا فاٸر ۔۔شاباش ۔۔۔۔۔گن نمبر 6 کے گنر نے جیسے ہی ٹریگر پیڈل پر پاٶں مارا ۔فاٸر ندارد۔۔۔۔40mm کا گولہ مِس فاٸر ہو چکا تھا جسے گن کی بیرل سے بحفاظت نکالا جارہا تھا ۔چیف سیفٹی آفیسر اپنی نشست سے اُٹھے ۔میگا فون ہاتھ میں لیا اور گرج دار آواز سےگویا ہوٸے ۔گن نمبر 6….تمھاری گن کی رینج کیا ہےےےےے؟حوالدار عبدالرزاق بجلی کی سی سُرعت سےداٸیں ایڑھی اور باٸیں پنجے پر پیچھے گھوما۔پاٶں کے زمیں پر پڑتےہی گرد اُڑی ۔کٹھاک سے سیلیوٹ کیا اور شیر کی دھاڑ سے چنگھاڑتے ہوٸے گویا ہوا۔
کو نپتہ سررررررررر۔
(کوٸی نہیں پتہ سر)۔
چیتے جیسی پھرتی اور بے مثال حاضر جوابی کو دیکھتے ہوٸے چیف سیفٹی آفیسر کی آواز گونجی۔۔
گُڈ شاباش ش ش ش۔اتنی دیرمیں ڈراٶن راٸٹ سے نمودار ہوچکا تھا اور گنیں اُس پر آگ برسانے کی تیاری کرچکی تھیں۔

ڈاکٹر الیاس عاجز

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اقبال احمد ساجد کے نعتیہ مجموعہ کلام پر لکھا گیا…