20 مئی, 2020

    اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے

    سعید خان کی اردو غزل
    30 اکتوبر, 2020

    دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

    علامہ طالب جوہری کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    خط سے وہ زور صفاے حسن اب کم ہو گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 ستمبر, 2025

    وہ کسی اور سے ملا ہوگا

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2020

    شب میں دن کا بوجھ اٹھایا دن میں شب بے داری کی

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    وہ بت گرفتہ دلوں کا نصیب ہو کر بھی

    سعید خان کی اردو غزل
    19 جنوری, 2020

    جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

    ایک اردو غزل از ایوب صابر
    21 مارچ, 2021

    محبتوں میں مجھے مشت بھر کمائی تو دے

    دعا علی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    گزر ہی جائے گی شب ، رابطہ نہیں کرنا

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    ہجر کی رت میں گام گام گرے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2019

    مرے دل کو شوقِ فغاں نہیں

    ایک اردو غزل از خواجہ حیدر علی آتش
    12 دسمبر, 2021

    خوش ہو رہا ہوں اپنی تب و تاب دیکھ کر

    خالد سجاد کی ایک اردو غزل
    23 دسمبر, 2025

    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    15 مارچ, 2020

    خوراک غم کو کر لیا جینے کے واسطے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    بھر کے دامن میں ترا رنج تری یاد سمیت

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button