13 جولائی, 2022

    کوئی منصب نہ خزانہ نہ جزا چاہتی ہے

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    25 فروری, 2018

    وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    نیند میں خواب کھُلے خواب میں ہو نیل پری

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    مجھ کو ہی نہیں اسکو بھی

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    13 مئی, 2020

    کل میں انہی رستوں سے گزرا تو بہت رویا

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    5 فروری, 2020

    کب سوچتا ہوں پاؤں بھنور کرنے سے پہلے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    24 مارچ, 2020

    بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    4 مارچ, 2025

    مصرع مصرع انتخاب ہے!

    انتخاب : ثمامہ بن خالد
    19 فروری, 2026

    موت جس وقت آئیگی مجھ کو

    زین محکم کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    گرداب وار یار ترے صدقے جایئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 نومبر, 2019

    ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2020

    تیرے ارد گرد وہ شور تھا

    امجد اسلام امجد کی ایک اردو غزل
    13 دسمبر, 2025

    اسے اس وقت اس محفل میں

    سپنا مولچندانی کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    5 فروری, 2020

    یہ جنگ کا جو کھیل ہے رچا ہوا عجیب ہے

    ڈاکٹرمحمد الیاس عاجز کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button