21 جون, 2020

    یہ گل نہیں یہ شگوفے نہیں یہ خار نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    تمثیل

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    28 اگست, 2025

    ترے ملنے کو بے کل ہو گئے ہیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    16 نومبر, 2025

    گِلہ کرنے پہ بھی مَیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    21 جون, 2020

    کیا تم سے گلہ کہ مہرباں ہو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    بکنے لگتا ہوں تو

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    1 مئی, 2026

    ذوق ِ منزل نے مٹایا ہے رسائی کا دکھ

    روبینہ صدیق رانیؔ کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    گزر گیا جو مرے دل پہ سانحہ بن کر

    ایک اردو غزل از جلیل عالی
    26 اپریل, 2020

    ہنسنے نہیں دیتا کبھی رونے نہیں دیتا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    2 جنوری, 2020

    یہ جو نصیبِ عشق ہے ، یہ جو غبارِ عشق ہے

    ایک اردو غزل از سعود عثمانی
    5 اپریل, 2020

    تم ثروت کو پڑھتی ہو

    علی زریون کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2025

    نہ میں یوسف نہ ترے

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    9 جولائی, 2026

    تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

    ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل
    6 اپریل, 2026

    زینؔ گفتار و تصنع سے کدھر ہوتا ہے

    زین علی آصف کی ایک اردو غزل
    10 جون, 2024

    بونوں سے سمجھوتہ کرکے

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button