22 جون, 2020

    دیکھ کر آ گیا ہے ان کو خیال

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    4 مئی, 2020

    شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ھے

    عابِد ملک کی ایک اردو غزل
    6 جون, 2020

    وقت جب رنج خد و خال اٹھاتا ہے میاں

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    19 اکتوبر, 2025

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    13 مئی, 2020

    وقت ہی کم تھا فیصلے کے لیے

    ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 مارچ, 2020

    میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2020

    آس ہو گی نہ آسرا ہو گا

    اردو غزل از بشیر بدر
    22 نومبر, 2019

    یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    8 جولائی, 2019

    منزل دراز و دور ہے اور ہم میں دم نہیں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    3 مئی, 2020

    آپ سے انس ہوا چاہتا ہے

    ایک اردو غزل از افروز عالم
    15 مئی, 2020

    میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    10 جنوری, 2026

    جس کی نہ کوئی رات

    آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button