6 اپریل, 2020

    من جس کا مولا ہوتا ہے

    علی زریون کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2020

    آس ہو گی نہ آسرا ہو گا

    اردو غزل از بشیر بدر
    7 اکتوبر, 2025

    ازل سے راہِ فنا اختیار کرتے ہوئے

    سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    وضعداری کیا حقیقت راس آ سکتی نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    21 نومبر, 2019

    میں فقط چلتی رہی

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    ہو گئے ان سے ترک پیام

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
    12 اکتوبر, 2025

    تھک ہار کے بیٹھی ہوں

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    18 جون, 2020

    عالم سوز تمنا بے کراں کرتے چلو

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    خواب دیکھا تھا کسی مغرور کا

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    22 ستمبر, 2025

    اگرچہ اس نے لکھا ہوا ہے

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    12 دسمبر, 2021

    شکل بھی ٹھیک ہے اور نام و نسب اچھا ہے

    خالد سجاد کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    14 نومبر, 2021

    سکول جانے کی عمر ہے

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    5 جنوری, 2020

    جب سے کتاب زیست کا رنگ جمال ہیں

    آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button