نالۂ نا رسا کی خوشبو ہوں
میں گُلِ بے نوا کی خوشبو ہوں
آئنوں میں ہوں صاف آئینہ میں
خوشبووں میں بلا کی خوشبو ہوں
میرے ہونے سے ہے صبا کو ثبات
غنچۂ پر ادا کی خوشبو ہوں
ظلمتِ شب کو پار جو کر لے
اس سنہری ہوا کی خوشبو ہوں
کیا عدم کیا مرا وجود کہ میں
اسکے دستِ عطا کی خوشبو ہوں
مجھ کو تجسیم کر کے دیکھ کبھی
تیرے حیرت سرا کی خوشبو ہوں
نمرہ علی








