آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعثمان علوی

زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے

عثمان علوی کی ایک اردو غزل

زندگی کوچۂ اغیار میں ضم ہونی ہے
ہم سے تقدیر جنوں خاک رقم ہونی ہے

ضبط کا حکم نہ کر چھوڑ کے جانے والے
کوئی پتھر تو نہیں آنکھ ہے نم ہونی ہے

صبح سے سوچ کے ہلکان ہوا جاتا ہوں
ہائے مولا کہ ابھی شام الم ہونی ہے

جانے کب بال سمیٹے گی یہ کالی ڈائن
جانے کب صبح شہید شب غم ہونی ہے

یہ مری عین جوانی کا معمہ ہے میاں
عشق وہ آگ نہیں ہے جو بھسم ہونی ہے

عثمان علوی

post bar salamurdu

عثمان علوی

حافظ آباد, پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button