اردو غزلیاتاوریا مقبول جانشعر و شاعری

ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا

اوریا مقبول جان کی ایک اردو غزل

جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا
اک خواہشِ ناکام کو اس کو چۂ دل سے
بدلے تیرے تیور تو قرینے سے نکالا
پاؤں تری دہلیز پے رکھنے کے سزاوار
تونے جنہیں تکریم کے زینے سے نکالا
سکہ نہیں چلتا تری سرکار میں ورنہ
کیا کیا نہ ہنر ہم نے خزینے سے نکالا
ہم ایسے برے کیا تھے کے نفرت نہ محبت
رکھّا نہ کبھی پاس نہ سینے سے نکالا
ٹھوکر میں طلب کی رہے ہر عمر میں ہم جان
یوں جیت کے مفہوم کو جینے سے نکالا

اوریا مقبول جان

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button