22 جون, 2020

    کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    تربت کہاں لوحِ سرِ تربت بھی نہیں ہے

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
    22 جنوری, 2020

    غم کے مارے جو بغاوت پہ اُتر آتے ہیں

    ایک اردو غزل از عاصم ممتاز
    12 جون, 2024

    دھوپ کمرے میں چلی

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    ایک صدمہ سا ہوا اشک جو اس بار گرے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    17 نومبر, 2019

    نہ پوچھ اس کی

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    شاید تمھیں ہو راس یہ خوشبو ہوا یہ رات

    ثمینہ گُل کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    یہ جنگ ہار نہ جائے سپاہ قید میں ہے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    6 جنوری, 2013

    اِک خلش ایک تشنگی سی ہے

    ایک اردو غزل از ساحل سلہری
    26 مئی, 2020

    اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    یاد رکھ دیدۂ تر اشک جو نکلا کوئی

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی
    20 مئی, 2020

    سرِ بازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے

    سعید خان کی اردو غزل
    19 مئی, 2020

    اختیار

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    27 مارچ, 2025

    اک لحظہ بہے آنسو

    غزل از صوفی غلام مصطفٰی تبسم
    20 دسمبر, 2019

    کوئی فکر لو نہیں دے رہی

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button