29 مئی, 2024

    عجب ہے کاغذِ قسمت

    سید محمد وقیع کی ایک غزل
    28 جنوری, 2014

    ان کے بغیر ہم جو گلستاں میں آ گئے

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 مئی, 2020

    بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    24 ستمبر, 2025

    اٹھائے رنج کئی خود کو آزماتے ہوئے

    منزہ سحر کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    سفر گل کا پتا تھا پہلے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    مرے گیت

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    20 اکتوبر, 2025

    کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا

    ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    نہیں تبخال لعل دلربا میں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    12 اکتوبر, 2019

    کب محض تسکینِ جان و دِل

    رحمان فارس کی ایک غزل
    19 دسمبر, 2019

    زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    28 مئی, 2020

    وہ آ کے لوٹ گیا ، کائنات ختم ہوئی

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    پھول، خوشبو، دھنک ،ستارے سب

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    دل مرا مضطرب نہایت ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 دسمبر, 2024

    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button