13 جون, 2020

    خواب بُنتا رہوں میں بستر پر

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    13 اپریل, 2020

    درد کا کاروبار، توبہ ھے

    ایک اردو غزل از فاخرہ بتول
    3 جولائی, 2025

    جو روشن ھے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    19 مارچ, 2022

    درد کا دیپ جلاتے ہیں

    ایک اردو غزل از عمر اشتر
    25 جون, 2020

    یہ روش ہے دلبروں کی نہ کسو سے ساز کرنا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 نومبر, 2021

    بچھڑ کے لوگ جو اپنوں سے ، ٹوٹ جاتے ہیں

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    23 اپریل, 2022

    تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

    ایک اردو غزل از شہلا خان
    19 اکتوبر, 2025

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    19 اپریل, 2020

    حُسن کا یہ کمال ہے سائیں

    حسیب بشر کی ایک غزل
    30 اپریل, 2020

    داستانِ عشق میری کچھ نہیں ہے دوستو

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    14 جون, 2020

    گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    31 مئی, 2020

    تفسیر مرے سوال کا تھا

    ناہید ورک کی اردو غزل
    19 ستمبر, 2025

    میرے جیسے اس بستی میں

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    27 فروری, 2025

    نیند اچھی ہے کہ کچھ خواب

    عدنان اثر کی ایک غزل
    2 مئی, 2020

    حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

    ایک اردو غزل از افروز عالم

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button