- Advertisement -

آپ کہتے ہیں ہوئی جاتی ہے چاہت کم کم

شہناز رضوی کی ایک اردو غزل

آپ کہتے ہیں ہوئی جاتی ہے چاہت کم کم
مان لیں کیسے یہ ہم ہوگئ الفت کم کم

جل ہی جاتا کہیں ساون میں نشیمن کوئی
بجلیوں کی رہی صد شکر شرارت کم کم

بات سے بات بنانے کا ہنر آیا نہیں
تِرے افسانے میں لگتی ہے حقیقت کم کم

جانے کس دُنیا میں رہتے ہیں خدا خیر کرے
آج کل ہونے لگی ان کی زیارت کم کم

اس نے یہ ترک ِ تعلق کا بنایا تھا جواز
شہر میں رزق تو وافر تھا محبت کم کم

یہ بھی تبدیلی ء موسم کا اثر ہے شاید
جو نظر آتی ہے جذبات میں شدت کم کم

بدلے بدلے ہوئے حالات نظر آتے ہیں
اب تو رہتی ہے لبوں پر بھی شکایت کم کم

کبھی بتلائیں گے وہ مجھ سے بچھڑنے کا سبب
یہ الگ بات وہ کرتے ہیں وضاحت کم کم

ہم نے بھی دل کو بہر طور سنبھالا،، شہناز
پیش آئی ہمیں جب اس کی رفاقت کم کم

شہناز رضوی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
منظوم خِراجِ تحسین مُحسنِ پاکستان