22 مارچ, 2020

    کیا سروکار ہمیں رونقِ بازار کے ساتھ

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    26 جون, 2020

    جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    6 جولائی, 2025

    جب تیرگی میں گھر سے

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    علاجِ تلخیٔ ایام کی ضرورت ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 جون, 2021

    سُنا ہے اُسکی چوکھٹ پر، جلے چراغ ملتے ہیں

    طارق اقبال حاوی کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    غزل کے سینے میں روز

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    مُرغِ حریص و کِبر مُقَفَّل پَسَند ہے

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    فرو آتا نہیں سر ناز سے اب کے امیروں کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2019

    دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

    غزل از اکبر الہ آبادی
    23 نومبر, 2019

    تھے کل جو اپنے گھر میں مہمان وہ کہاں ہیں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    22 مارچ, 2025

    ریت پر نقش بنائیں گے

    ایک غزل از سید زوار
    5 اپریل, 2020

    بڑی مشکل کہانی تھی مگر انجام سادہ ہے

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    8 جون, 2020

    کچھ باتیں

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    8 جون, 2020

    گریز

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button