اردو غزلیاتایوب خاورشعر و شاعری

جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے

ایوب خاور کی اردو غزل

جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے
اُس آئینے کی تمنّا کبھی رہے نہ مجھے

میں جن کی کھوج میں اِک عمر ہار بیٹھا ہوں
وہ خوشبوؤں کے جزیرے کہیں ملے نہ مجھے

کھلی کتاب ہوں، ہر لفظ آئینہ ہے مرا
مگر وہ لوگ! ابھی تک جو پڑھ سکے نہ مجھے

میں تیرے لمس میں، تُو میرے لمس میں گھل جائے
اور اس طرح کہ خبر ہی نہ ہو، تجھے نہ مجھے

ایوب خاور 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button