اردو غزلیاتشعر و شاعریکومل جوئیہ

زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

زرد چہرہ ہے مرا زرد بھی ایسا ویسا
ہجر کا درد ہے اور درد بھی ایسا ویسا

ایسی ٹھنڈک کہ جمی برف ہر اک خواہش پر
سرد لہجہ تھا کوئی سرد بھی ایسا ویسا

اب اسے فرصت احوال میسر ہی نہیں
وہ جو ہمدرد تھا ہمدرد بھی ایسا ویسا

یعنی اس دھول کے چھٹنے پہ بھی الزام جنوں
کوئی طوفاں ہے پس گرد بھی ایسا ویسا

پوری بستی میں بس اک شخص سے نسبت مجھ کو
مجھ سے منکر ہے وہ اک فرد بھی ایسا ویسا

عشق نے ریل کی پٹری پہ لٹایا جس کو
تھا جواں مرد جواں مرد بھی ایسا ویسا

کیا تجھے ہجر کے آزار بتائے کوملؔ
تو تو بے درد ہے بے درد بھی ایسا ویسا

کومل جوئیہ

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button