12 جون, 2024

    دعویٰ تو ہے اسے بھی

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل
    30 دسمبر, 2019

    کمال ضبط کا یہ آخری ہنر بھی گیا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    کوئی شام مجھ میں سمٹ گئی

    فیصل ہاشمی کی ایک اردو غزل
    25 جولائی, 2022

    کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے

    افتخار عارف کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    22 جون, 2020

    وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    28 جون, 2020

    آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 فروری, 2020

    سو لینے دو اپنا اپنا کام کرو چپ ہو جاؤ

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    18 مئی, 2025

    ایک طرف پت جھڑ کا موسم

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    سرِ بازار لُٹ کر بھی دہائی اب نہیں دیتے

    سعید خان کی اردو غزل
    6 جنوری, 2020

    اے شب ہجر

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    نذر دنیا ہوئے ارمان ہمارے کتنے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button