اردو غزلیاتشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر

شہزاد نیّرؔ کی ایک غزل

مرے روگ کا نہ ملال کر مرے چارہ گر

میں بڑا ہوا اسے پال کر مرے چارہ گر

سبھی درد چن مرے جسم سے کسی اسم سے

مرا انگ انگ بحال کر مرے چارہ گر

مجھے سی دے سوزن درد رشتۂ زرد سے

مجھے ضبط غم سے بحال کر مرے چارہ گر

مجھے چیر نشتر عشق سوز سرشک سے

مرا اندمال محال کر مرے چارہ گر

یہ بدن کے عارضی گھاؤ ہیں انہیں چھوڑ دے

مرے زخم دل کا خیال کر مرے چارہ گر

فقط ایک قطرۂ اشک میرا علاج ہے

مجھے مبتلائے ملال کر مرے چارہ گر

میں جہان درد میں کھو گیا تجھے کیا ملا

مجھے امتحان میں ڈال کر مرے چارہ گر

مجھے اپنے زخم کی خود بھی کوئی خبر نہیں

سو نہ مجھ سے کوئی سوال کر مرے چارہ گر

ترا حال دیکھ کے روئے گا ترا چارہ گر

مرا دل نہ دیکھ نکال کر مرے چارہ گر

شہزاد نیّرؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button