13 جون, 2020

    کیا کہیں اَور دل کے بارے میں

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2025

    یہ نہیں دیکھتا کوئی بھی

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2019

    دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    3 اپریل, 2014

    کافر بنوں گا کُفر کا ساماں تو کیجئے

    ایک اردو غزل از جوش ملیح آبادی
    14 نومبر, 2019

    اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

    مومن خان مومن کی ایک عمدہ غزل
    27 جون, 2025

    آبلہ پائی، تھکن

    احمد ابصار کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    چراغ بام تو ہو، شمع انتظار تو ہو

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    18 دسمبر, 2019

    رسمِ جفا کامیاب ، دیکھئیے ، کب تک رہے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    17 نومبر, 2019

    آدمی وقت پر گیا ہوگا

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 مارچ, 2020

    ستارے سے ستارا مل رہا ہے

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    حال نہیں کچھ کھلتا میرا

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    6 ستمبر, 2025

    ہم کہ چہرے پہ نہ لائے کبھی ویرانی کو

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    3 جولائی, 2025

    اب جو آئی ہے تو ویسے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    26 فروری, 2025

    دل کو کر دیتا ہے تسخیر

    عدنان اثر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button