12 جنوری, 2025

    جو بھی تیرے لیے بنی ہو گی

    فارحہ نوید کی ایک اردو غزل
    13 نومبر, 2025

    فلک پہ لے گا نہ مُجھ کو

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    25 جون, 2020

    کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 ستمبر, 2025

    میرے جیسے اس بستی میں

    دانش عزیز کی ایک اردو غزل
    2 مئی, 2020

    یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

    افروز عالم کی ایک اردو غزل
    25 جولائی, 2022

    اس درجہ میرے فن کا حسد مت کرو اے دوست

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    1 مارچ, 2026

    جس باغ کا پودا ہے ادھر کیوں نہیں لگتا

    سعید شارق کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    رنگ خاکے میں جو بھرا میں نے

    عدنان سرمد کی ایک اردو غزل
    10 فروری, 2020

    پھر ہوا وقت کہ ہو

    ایک اردو غزل از مرزا غالب
    5 نومبر, 2020

    سرگشتہ بہت رہنا ، کوئی بات نہ کرنا!

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    طواف کرتا ہوا

    ایک اردو غزل از سعید عثمانی
    20 فروری, 2026

    جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    13 مئی, 2020

    کس طرح ایمان لاؤں خواب کی تعبیر پر

    ضیا مذکور کی ایک اردو غزل
    9 جون, 2020

    کل اور آج

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button