25 اپریل, 2026

    کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    18 اکتوبر, 2025

    شعور و فہم کا عالم

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    30 اکتوبر, 2020

    آج بھی آپ گئے ملنے اس کے گھر

    علامہ طالب جوہری کی اردو غزل
    28 مئی, 2024

    بدن کو خاک کیا اور لہو کو آب کیا

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    سبھی کچھ خاک میں تحلیل ہوتا جا رہا ہے

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    1 نومبر, 2025

    سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    8 دسمبر, 2025

    اسی طرح گر نمی کو

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 دسمبر, 2021

    خشک صحرا ، تیرے غم کا کیا کریں

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    نشاط اور اُداسی نہیں ہے کم سے کم

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    9 مئی, 2020

    خواب زدہ ویرانوں تک

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    27 ستمبر, 2025

    اس نے کہا

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    جب سوئے طیبہ تخیل کا سفَر ہوتا ہے

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    زباں ہلاؤ تو ہو جائے فیصلہ دل کا

    داغ دہلوی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button