16 مئی, 2020

    بات نکلی تو پھر دور تک جاٸےگی

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    26 جون, 2025

    نگاہیں خود پہ رکھتے ہو

    حسن ابن ساقی کی ایک اردو غزل
    4 اپریل, 2020

    یار اپنوں کی خرافات پہ غم کیا کرنا

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2025

    صرف ہم دونوں کو لاحق ہے

    کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل
    2 مئی, 2020

    شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے

    افروز عالم کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    ہجوم رنج و غم میں کھو گئے ہم

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2021

    اب تک ہیں تخیل میں اتاری ہوئی زلفیں

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    6 اپریل, 2026

    شیشۂِ دل پر اتر جانا کسی تصویر کا

    زین علی آصف کی ایک اردو غزل
    15 دسمبر, 2019

    قیدِ موجود و میسر میں نہیں رہنے دیا

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    چلے ہیں ایک زمانے کے بعد دیوانے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    اس نے ہونٹوں سے کھینچ لی سگریٹ

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    نہیں جو چیز جہاں میں اسے پکارے گئے

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 نومبر, 2019

    وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    19 فروری, 2026

    ختم ہوتے نہیں سفر میرے

    ایک اردو غزل از ڈاکٹر طارق قمر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button