23 جون, 2025

    خود کو بیداد کر کے روئے گا

    علمہ ہاشمی کی ایک اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    دل نے اپنی زباں کا پاس کیا

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    5 مئی, 2020

    یارجو بھی مرے قریں کے ہیں

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    17 دسمبر, 2021

    بول سکتے نہیں رواں شاید

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    جو مستقل ہے،مصیبت سے

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    3 مارچ, 2022

    بات کے بیچ بول اٹھتے ہو

    محبوب کشمیری کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    کرتے ہیں جوکہ جی میں ٹھانے ہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 اپریل, 2020

    ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    آپ تک ہے نہ غم جہاں تک

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    جب بھی جلے گی شمع

    ایک غزل از حکیم ناصر
    13 جون, 2020

    سخن جو خود سے کِیا تیرے رُو برو کرتے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    جو دیا تو نے ہمیں و ہ صورتِ زر رکھ لیا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    21 اکتوبر, 2019

    بے قراری سی بے قراری ہے

    جون ایلیا کی ایک غزل
    3 جنوری, 2026

    یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button