19 مئی, 2020

    اَب کہاں غم شناس ہے میرا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    26 اپریل, 2020

    کوئی ایسا سبب نہیں ہوتا

    ایک اردو غزل از ساحل سلہری
    15 مئی, 2020

    جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    29 اگست, 2025

    خواب تصویر کر رہا ہوں میں

    ایک اردو غزل از ایم دوشی
    30 مئی, 2020

    بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    9 جون, 2020

    کل اور آج

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    28 نومبر, 2019

    ابنِ مریم ہوا کرے کوئی

    غزل از اسداللہ خان غالب
    24 جنوری, 2020

    موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں

    ایک اردو غزل از جلیل عالی
    10 جون, 2024

    وعدہ بھی اُس نے سوچ کے

    ناصرہ زبیری کی ایک اردو غزل
    19 ستمبر, 2020

    لگ رہا ہے اب اکیلے مجھ کو ڈر

    عشبہ تعبیر کی ایک اردو غزل
    14 دسمبر, 2025

    نثار جاؤں ترے، پیار کر کے دیکھ تو لوں

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
    26 جنوری, 2020

    مرے ہم نفس، مرے ہم نوا

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    21 مارچ, 2025

    ترے دئیے کی تھی باتی

    ایک اردو غزل از صوفیہ بیدار
    20 جون, 2025

    دل ایسے مبتلا ہوا تیرے ملال میں

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    22 جنوری, 2022

    حسن و دولت ہیں عارضی آخر

    طارق اقبال حاوی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button