26 جون, 2020

    عجب صحبت ہے کیونکر صبح اپنی شام کریے اب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مئی, 2020

    وہی ہے دل کی ضرورت جو آس پاس رہے

    سعید خان کی اردو غزل
    2 فروری, 2020

    حالات کے گھماؤ سے یکبار بک گئے

    رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل
    10 نومبر, 2025

    وہ عزم مجھکو نہایت چٹان دے کے گیا

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    غم موجود ہے

    ایک غزل از حفیظ جالندھری
    30 اپریل, 2020

    کیوں نہ اڑ جائے مرا خواب ترے کوچے میں

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    3 جنوری, 2020

    جب مرا ہر ایک دکھ میرا ہنر ہو جائے گا

    ایک غزل از نجمہ کھوسہ
    7 اکتوبر, 2025

    ادھورے پن کی رفتہ رفتہ

    سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل
    6 جولائی, 2025

    تمھارے عہد و پیماں

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    12 نومبر, 2021

    سوچتا ہوں کہ اسے نیند بھی آتی ہوگی

    ایک غزل از وصی شاہ
    27 جون, 2026

    مسرور بھی ہوں خوش بھی ہوں

    بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
    17 اپریل, 2026

    جو لکھنے کو قلم رکھنا

    از پروفیسر اویس خالد
    25 فروری, 2025

    اک سرسری سی بات کی

    شہزین فراز کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    9 مئی, 2020

    ہجر کی رت کا طرفدار بھی ہو سکتا ہے

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button