- Advertisement -

شب رفتہ میں اس کے در پر گیا

میر تقی میر کی ایک غزل

شب رفتہ میں اس کے در پر گیا
سگ یار آدم گری کر گیا

شکستہ دل عشق کی جان کیا
نظر پھیری تونے تو وہ مر گیا

ہوئے یار کیا کیا خراب اس بغیر
وہ کس خانہ آباد کے گھر گیا

کشندہ تھا لڑکا ہی ناکردہ خوں
مجھے دیکھ کر محتضر ڈر گیا

بہت رفتہ رہتے ہو تم اس کے اب
مزاج آپ کا میر کیدھر گیا

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل