اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

چمن بھی ترا عاشق زار تھا

میر تقی میر کی ایک غزل

چمن بھی ترا عاشق زار تھا
گل سرخ اک زرد رخسار تھا

گئی نیند شیون سے بلبل کی رات
کہیں دل ہمارا گرفتار تھا

قد یار کے آگے سرو چمن
کھڑا دور جیسے گنہگار تھا

یہی جنس دل کی گراں قدر تھی
ولے جب تلک تو خریدار تھا

بہت روئے ہم شبنم و گل کو دیکھ
کہ چسپاں ہمیں بھی کہیں پیار تھا

مجھے اے دل چاک کیا شانہ سا
کسو زلف سے کچھ سروکار تھا

گیا میر یاں سے کروگے جو یاد
کہو گے کہ مسکیں عجب یار تھا

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button