6 ستمبر, 2025

    گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں

    احمد ندیم قاسمی کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    12 جون, 2020

    سیر کرنے سے ہَوا لینے سے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی

    زبیر قیصر کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    مرے قلم کو ملی ہے وہ آب و تاب کہاں

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    16 اکتوبر, 2025

    درد دل کی دوا نہیں کرتے

    ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    فلک کو چھونے کی حسرت میں بٹ گئے ہم لوگ

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    1 اپریل, 2020

    وہ دشمنِ جاں، جان سے پیارا بھی کبھی تھا

    احمد فراز کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2024

    لہو کی لہر میں

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    صبر تو کرحساب رکھتا ہوں

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2026

    زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں

    بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    12 اکتوبر, 2025

    عطا ہو پھر سے نیا بابِ ارتقا، یا رب

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

    میر تقی میر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button