آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہ محمود جامؔیشعر و شاعری

مرے قلم کو ملی ہے وہ آب و تاب کہاں

شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل

مرے قلم کو ملی ہے وہ آب و تاب کہاں
کہ ایک جگنو کہاں اور آفتاب کہاں

میں کیسے مدحتِ سرکار میں زباں کھولوں
زمین پر میں رکھوں عرش کا نصاب کہاں

صحیفے اور بھی آئے ہیں آسماں سے مگر
رسول جیسی ہے اُتری کوئی کتاب کہاں

کہے جو نعت خدا پھر تو حق ادا بھی ہوا
یہ مشتِ خاک کہاں مدحتِ جناب کہاں

نبی کی ذات سے آگے جو کوئی سوچتا ہے
وہ نورِ رُشدِ حقیقی سے فیض یاب کہاں

ظہورِ رحمتِ عالم ظہورِ وحدت ہے
رہا نگاہ سے میری چھپا غیاب کہاں

بھلا ہو آنکھ میں اترے ہوئے ستاروں کا
فراق و ہجر کا مٹتا یوں اضطراب کہاں

حضور جان سے بڑھ کر جسے عزیز نہیں
نگاہِ ربِ دو عالم میں کامیاب کہاں

میں جس اجالے میں توصیفِ مصطفیٰ لکھوں
وہ نورِ قلب ہوا مجھ کو دستیاب کہاں

خرد کے سارے کشود و حدود ایک طرف
ثنائے شاہِ دو عالم کا ایک باب کہاں

جو اِذنِ خالقِ بے چُوں ہو نعت ہوتی ہے
چنانچہ دستِ ہنر کا یہ اِکتِساب کہاں

میں جس خیال سے ذاتِ نبی کو سوچتا ہوں
یہ جِن و اِنس ہوئے میرے ہمرکاب کہاں

یہ سوزِ دردِ محمد کی مہربانی ہے
وگرنہ روح میں جامؔی وہ التہاب کہاں

شاہ محمود جامؔی
سیالکوٹ پاکستان
وڈیانوالہ

post bar salamurdu

شاہ محمود جامؔی

نام ، راشد محمود - قلمی نام ، شاہ محمود جامؔی - قبیلہ ، بَنی ہاشم - تعلیم ، ایم اے اسلامیات - پیشہ ، درس و تدریس - تاریخ پیدائش ... 28.09.1980 - جائے پیدائش ... وڈیانوالہ سیالکوٹ پنجاب - ساکن ، وڈیانوالہ - سیالکوٹ پنجاب پاکستان -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button