جمعرات, اکتوبر ۸ ۲۰۲۶
تازہ سلام
شوقِ عبادت
تم اچھے لگتے ہو
اتنے برس گزار دیے، میسج نہیں کیا
میری خوش فہمی تھی
جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
کہانی کچھ عجیب ہے
تاریخ کشی
مل ناں سکا یہ بات الگ چاہیے تو تھا
ذکر محمد ﷺ
زیارت، جونیپر کا جنگل جلا ہے
لاگ ان کریں
منتخب آرٹیکل
Sidebar
تلاش کریں
مینو
سرورق
اسلامی گوشہ
قرآن پاک پڑھیں
تفسیر و احادیث
حمد و ثنا
اسلامی مضامین
نعتیہ کلام ﷺ
سلام اہل بیت
سلام اردو سپیشل
ادبی قصے
دلچسپ معلومات
مشہور شخصیات
ترانے اور ملی نغمے
اردو کوئز
تشریحات
باورچی خانہ
مزاحیہ لطائف
سوانح حیات
اردو تقریبات
اردو پیڈیا
شعر و شاعری
اردو غزلیات
اردو نظم
گیت اور نغمے
پنجابی کونے
پنجابی شاعری
اقبالیات
اقبالی غزلیات
اقبالی منظومات
مزاحیہ شاعری
قطعات و رباعیات
ویڈیو گیلری
اردو تحاریر
اردو افسانے
اردو ناول
اردو کالمز
اختصاریئے
صحت کے کالم
زرعی کالم
بچوں کا ادب
بچوں کی کہانیاں
اردو ڈرامے
اردو تراجم
اردو سفرنامے
خطبات و مکتوبات
مقالات اور مضامین
تحقیق و تنقید
اردو مزاحیہ تحاریر
اردو ڈاؤن لوڈز
اردو سافٹ ویئر
پی ڈی ایف کتابیں
آپ کا سلام
سلام اردو کے لئے لکھیں
Facebook
X
YouTube
Instagram
WhatsApp
اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں
پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ
ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے
تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے
اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی
ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل جیسا ہے
پہلا عشرہ
کتنے سورج تراشے مگر
نیام ہونا بھی تلوار بن کے رہنا بھی
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے
جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو
سرورق
|
شعر و شاعری
|
سرفراز آرش
سرفراز آرش
سرفراز آرش کی اردو شاعری
سائٹ منتظم
14 نومبر, 2019
0
۵۰۳
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
سرفراز آرش کی ایک غزل
«
۱
۲
Back to top button
Close
تلاش کریں
Close
لاگ ان کریں
کیا آپ بھول گئے ہیں؟
یاد رکھیے
لاگ ان کریں