بدھ, اکتوبر ۲۸ ۲۰۲۶
تازہ سلام
اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے
اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں
کوئی اُس جیسا پیارا بھی نہیں ہو سکتا
میں نے اس کی طرف جانا چھوڑ دیا
نسبتوں کا فیضان
اور عذاب کسے کہتے ہیں؟
محبت مری اک کہانی رہے گی
اسے میرا کوئی خیال نہیں ہے
آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”
"دیا” (کالمز کا مجموعہ)
لاگ ان کریں
منتخب آرٹیکل
Sidebar
تلاش کریں
مینو
سرورق
اسلامی گوشہ
قرآن پاک پڑھیں
تفسیر و احادیث
حمد و ثنا
اسلامی مضامین
نعتیہ کلام ﷺ
سلام اہل بیت
سلام اردو سپیشل
ادبی قصے
دلچسپ معلومات
مشہور شخصیات
ترانے اور ملی نغمے
اردو کوئز
تشریحات
باورچی خانہ
مزاحیہ لطائف
سوانح حیات
اردو تقریبات
اردو پیڈیا
شعر و شاعری
اردو غزلیات
اردو نظم
گیت اور نغمے
پنجابی کونے
پنجابی شاعری
اقبالیات
اقبالی غزلیات
اقبالی منظومات
مزاحیہ شاعری
قطعات و رباعیات
ویڈیو گیلری
اردو تحاریر
اردو افسانے
اردو ناول
اردو کالمز
اختصاریئے
صحت کے کالم
زرعی کالم
بچوں کا ادب
بچوں کی کہانیاں
اردو ڈرامے
اردو تراجم
اردو سفرنامے
خطبات و مکتوبات
مقالات اور مضامین
تحقیق و تنقید
اردو مزاحیہ تحاریر
اردو ڈاؤن لوڈز
اردو سافٹ ویئر
پی ڈی ایف کتابیں
آپ کا سلام
سلام اردو کے لئے لکھیں
Facebook
X
YouTube
Instagram
WhatsApp
ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے
ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
کتنے سورج تراشے مگر
ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل جیسا ہے
پہلا عشرہ
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں
نیام ہونا بھی تلوار بن کے رہنا بھی
تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے
نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو
جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
سرورق
|
شعر و شاعری
|
سرفراز آرش
سرفراز آرش
سرفراز آرش کی اردو شاعری
سائٹ منتظم
14 نومبر, 2019
0
۵۰۴
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
سرفراز آرش کی ایک غزل
«
۱
۲
Back to top button
Close
تلاش کریں
Close
لاگ ان کریں
کیا آپ بھول گئے ہیں؟
یاد رکھیے
لاگ ان کریں