پیر, جون ۸ ۲۰۲۶
تازہ سلام
المانیہ او المانیہ ۔ جرمنی کی سیر
کوشش و تقدیر
تری تلاش مجھے ہر سمے لگی ہوئی ہے
میرا بچپن نگر
رستم و سہراب یا عشق و فرض
حبیب جالب – عوام کا شاعر اور انقلابی سوچ
علامہ زاہد کوثری
چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتیں
صمود فلوٹیلا
گھر کی اصل طاقت
لاگ ان کریں
منتخب آرٹیکل
Sidebar
تلاش کریں
مینو
سرورق
اسلامی گوشہ
قرآن پاک پڑھیں
تفسیر و احادیث
حمد و ثنا
اسلامی مضامین
نعتیہ کلام ﷺ
سلام اہل بیت
سلام اردو سپیشل
ادبی قصے
دلچسپ معلومات
مشہور شخصیات
ترانے اور ملی نغمے
اردو کوئز
تشریحات
باورچی خانہ
مزاحیہ لطائف
سوانح حیات
اردو تقریبات
اردو پیڈیا
شعر و شاعری
اردو غزلیات
اردو نظم
گیت اور نغمے
پنجابی کونے
پنجابی شاعری
اقبالیات
اقبالی غزلیات
اقبالی منظومات
مزاحیہ شاعری
قطعات و رباعیات
ویڈیو گیلری
اردو تحاریر
اردو افسانے
اردو ناول
اردو کالمز
اختصاریئے
صحت کے کالم
زرعی کالم
بچوں کا ادب
بچوں کی کہانیاں
اردو ڈرامے
اردو تراجم
اردو سفرنامے
خطبات و مکتوبات
مقالات اور مضامین
تحقیق و تنقید
اردو مزاحیہ تحاریر
اردو ڈاؤن لوڈز
اردو سافٹ ویئر
پی ڈی ایف کتابیں
آپ کا سلام
سلام اردو کے لئے لکھیں
Facebook
X
YouTube
Instagram
WhatsApp
نیام ہونا بھی تلوار بن کے رہنا بھی
اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں
کسی دوپہر میں تری گھڑی
اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے
جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے
کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں
بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن بدل دیتے
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو
ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا
سرورق
|
شعر و شاعری
|
سرفراز آرش
سرفراز آرش
سرفراز آرش کی اردو شاعری
سائٹ منتظم
14 نومبر, 2019
0
۴۹۴
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
سرفراز آرش کی ایک غزل
«
۱
۲
Back to top button
Close
تلاش کریں
Close
لاگ ان کریں
کیا آپ بھول گئے ہیں؟
یاد رکھیے
لاگ ان کریں