جمعرات, جولائی ۹ ۲۰۲۶
تازہ سلام
وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے تھے
تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے
ماضی، حال اور مستقبل – کامیابی کا سفر
عاطف شہزاد
شعر شور انگیز
خوشبو، پھول،پرندے،بچے
یہ بظاہر جو زندگی کی ہے
دل درد پہ مائل کرتا ہوں
وطن کے عشق میں بدعت نہیں کی
ذہن کی نسوں میں وہ سوچ کو سجاتا ہے
لاگ ان کریں
منتخب آرٹیکل
Sidebar
تلاش کریں
مینو
سرورق
اسلامی گوشہ
قرآن پاک پڑھیں
تفسیر و احادیث
حمد و ثنا
اسلامی مضامین
نعتیہ کلام ﷺ
سلام اہل بیت
سلام اردو سپیشل
ادبی قصے
دلچسپ معلومات
مشہور شخصیات
ترانے اور ملی نغمے
اردو کوئز
تشریحات
باورچی خانہ
مزاحیہ لطائف
سوانح حیات
اردو تقریبات
اردو پیڈیا
شعر و شاعری
اردو غزلیات
اردو نظم
گیت اور نغمے
پنجابی کونے
پنجابی شاعری
اقبالیات
اقبالی غزلیات
اقبالی منظومات
مزاحیہ شاعری
قطعات و رباعیات
ویڈیو گیلری
اردو تحاریر
اردو افسانے
اردو ناول
اردو کالمز
اختصاریئے
صحت کے کالم
زرعی کالم
بچوں کا ادب
بچوں کی کہانیاں
اردو ڈرامے
اردو تراجم
اردو سفرنامے
خطبات و مکتوبات
مقالات اور مضامین
تحقیق و تنقید
اردو مزاحیہ تحاریر
اردو ڈاؤن لوڈز
اردو سافٹ ویئر
پی ڈی ایف کتابیں
آپ کا سلام
سلام اردو کے لئے لکھیں
Facebook
X
YouTube
Instagram
WhatsApp
اب انتظار رہتا ہے ہر رات دو بجے
اب تک جو جی چکا ہوں جنم گن رہا ہوں میں
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا
تجربہ روز جسے اس کا نیا ہوتا ہے
نہ کوئی ممنوعہ دانہ کھانا
خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی آ جائے گی
ڈھلتے سورج میں سہارا مرے دل جیسا ہے
پھول جتنا ہی کھل سکے ہم لوگ
کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی
نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو
بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن بدل دیتے
جس طرح پل ٹھہر جاتے ہیں
اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں
سرورق
|
شعر و شاعری
|
سرفراز آرش
سرفراز آرش
سرفراز آرش کی اردو شاعری
سائٹ منتظم
14 نومبر, 2019
0
۴۹۶
سمے نہ کاٹنا جنگل شناس ہو جانا
سرفراز آرش کی ایک غزل
«
۱
۲
Back to top button
Close
تلاش کریں
Close
لاگ ان کریں
کیا آپ بھول گئے ہیں؟
یاد رکھیے
لاگ ان کریں