اردو غزلیاتاکرام عارفیشعر و شاعری

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت
اور میں سو گیا کتاب سمیت

یہ کہا تھا ترا جواب نہیں
پھر کوئی آ گیا جواب سمیت

میں ترے خالی ہاتھ کے قربان
مجھ سے ملنا مگر گلاب سمیت

ملنے آیا ہے کوئی جان غزل
میرؔ صاحب کے انتخاب سمیت

نیند آتی ہے کروٹیں لے کر
رنج کے ساتھ اضطراب سمیت

ڈوب جانے میں کوئی حرج نہیں
ڈوبنا ہو اگر شراب سمیت

اکرام عارفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button