26 جون, 2020

    آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دعا یاد

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 فروری, 2026

    رنگ جب کوئی لب دیدۂ تر آئے گا

    عثمان علوی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 جون, 2020

    اب کے آیا ایسا چیت

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    جہاں پہ تو ہے

    راز احتشام کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    مری خامشی میں بھی اعجاز آئے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    8 مارچ, 2020

    اب اُس جانب سے اس کثرت سے تحفے آرہے ہیں

    تہذیب حافی کی ایک اردو غزل
    30 جنوری, 2020

    بجا ترکِ وفا کی

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    28 دسمبر, 2019

    صدائے شوق ، سکوتِ لبی سے شرمندہ

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    15 نومبر, 2025

    بھلا اجڑے گھروندوں سے

    ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا
    20 دسمبر, 2022

    زندہ رہنے کو بھی لازم ہے

    عاصمہ فراز کی اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    ساز ہستی کی صدا غور سے سن

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    4 جنوری, 2020

    شام سے آنکھ میں نمی سی ہے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    گلوں کی جلوہ گری، مہر و مہ کی بوالعجبی

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    21 جون, 2020

    کر لیا آپ نے گھر آنکھوں میں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button