- Advertisement -

جہاں پہ تو ہے تڑپتا ہے دل وہاں کے لیے

راز احتشام کی ایک اردو غزل

جہاں پہ تو ہے تڑپتا ہے دل وہاں کے لیے
الجھ رہا ہوں خدا سے زماں مکاں کے لیے

سماعتوں سے اتارو تھکن، یہیں ٹھہرو
یہی پڑاؤ مناسب ہے داستاں کے لیے

جھلس گئے مرے اجداد اسے بناتے ہوئے
تمہارے سر پہ جو چھتری ہے سائباں کے لیے

تُو اس میں رہ لے، مگر اس میں مبتلا مت ہو
“جہاں ہے تیرے لیے تُو نہیں جہاں کے لیے”

ہم اپنی خاک اڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں
بس اتنا رنج ہی کافی ہے آسماں کے لیے

راز احتشام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
راز احتشام کی ایک اردو نظم