28 اکتوبر, 2020

    عشق کے آخری امکان سے باہر ہو جا

    شازیہ اکبر کی ایک غزل
    20 جون, 2024

    بے حسی کب ہے

    یوسف عابدی کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    اپنے ہی دست و پا مرے اپنے رقیب ہو گئے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    3 ستمبر, 2024

    کھو جائے تو کہاں

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    18 اکتوبر, 2025

    زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 جون, 2020

    اے نکیلے یہ تھی کہاں کی ادا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    9 نومبر, 2025

    کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    20 اپریل, 2025

    کتنے سورج تراشے مگر

    سرفراز آرش کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2023

    زخم جب سینے کو مہکا نے لگا

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    18 فروری, 2020

    کتابِ زندگی کو کون دیکھے

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    2 نومبر, 2025

    ذہانت نے نئی دنیا کی

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    14 جون, 2020

    گر اس کا سلسلہ بھی عمر جاوداں سے ملے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    تباہی کے بادل ہیں لہرانے والے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    17 ستمبر, 2019

    گھر سے میرا رشتہ بھی کتنا رہا

    حسن عباسی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button