آپ کا سلاماردو غزلیاتاویس خالدشعر و شاعری

دل جس طرف بھی شوق سے

ایک اردو غزل از اویس خالد

دل جس طرف بھی شوق سے عزمِ سفر کرے
وہ شخص اپنے ڈھنگ سے مجھ کو بسر کرے

خواہش ہے اب کی بار نہ رسم جفا ملے
ایسا ملے جو غم کو میرے مختصر کرے

اچھا بھلا میں ضبط کی آغوش اوڑھ کر
سوتا ہوں پر وہ خواب میں آ پھر نظر کرے

غمخوار جس کو جان کر سونپے ہیں راز دل
وہ ہی ہوا کے دوش پہ سب منتشر کرے

ایسا ملے تو چھوڑ کے جانا بصد خوشی
یادوں میں تیری رات کو رو رو سحر کرے

دل ہی نے تجھ کو چاہا تھا دل ہی ہوا تباہ
دل ہی کے بس میں ہے کہ تجھے درگزر کرے

تاروں کے سنگ جاگ کر روتے ہوئے دل
چھپ چھپ کے ساری خلق سے تجھ تک سفر کرے

دے دو خبر کے پچھلے پہر مرگیا اویس
شاید یہ بات اس کے بھی دل پر اثر کرے

اویس خالد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button