- Advertisement -

یک طرفہ محبت

عمیرہ احمد کے ناول پیرِ کامل سے اقتباس

کیا میں یہ ریکویسٹ آپ سے دوبارہ کرسکتی ہوں؟”
اس نے جلال انصر کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا۔
"اب تو حالات بدل چکے ہیں۔ آپ کسی پر ڈیپنڈنٹ نہیں ہیں۔ نہ ہی میرے پیرنٹس کے کسی ردعمل کا آپ کو اندیشہ ہوگا نہ ہی آپ کے پیرنٹس اعتراض کریں گے۔ اب تو آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں۔”
وہ جلال کا جواب سننے کے لئے رکی۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ اس کی خاموشی نے امامہ کے اعصاب کو مضمحل کیا۔ شاید یہ اس لئے خاموش ہے کیونکہ اسے اپنی پہلی شادی یا بیٹے کا خیال ہوگا۔ امامہ نے سوچا۔ مجھے اسے بتانا چاہیے کہ مجھے اس کی پہلی شادی کی کوئی پروا نہیں ہے، نہ ہی اس بات پر اعتراض کہ اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔
"جلال مجھے آپ کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔”
جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
"امامہ! یہ ممکن نہیں ہے۔”
"کیوں ممکن نہیں ہے۔ کیا آپ کو مجھ سے محبت نہیں ہے؟”
"محبت کی بات نہیں ہے امامہ! اب بہت وقت گزر چکا ہے۔ ویسے بھی ایک شادی ناکام ہونے کے بعد میں فوری طور پر دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا۔ میں اپنے کیرئر پر دھیان دینا چاہتا ہوں۔”
"جلال! آپ کو مجھ سے تو کوئی اندیشہ نہیں ہونا چاہیے۔ میرے ساتھ تو آپ کی شادی ناکام نہیں ہوسکتی۔”
"پھر بھی۔۔۔۔ میں کوئی رسک نہیں لینا چاہتا۔” جلال نے اس کی بات کاٹ دی۔
"میں انتظار کرسکتی ہوں۔”
جلال نے ایک گہرا سانس لیا۔
"اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے امامہ! میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ تم سے شادی کرسکوں۔”
وہ دم سادھے اسے دیکھتی رہی۔
"یہ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی تھی۔ دوبارہ میں اپنی مرضی نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری شادی میں اپنے پیرنٹس کی مرضی سے کرنا چاہتا ہوں۔”
"آپ اپنے پیرنٹس کو میرے بارے میں بتا دیں۔ شاید وہ آپ کو اجازت دے دیں۔” اس نے ڈوبتے ہوئے دل کے ساتھ کہا۔
"نہیں بتا سکتا۔ امامہ دیکھو! کچھ حقائق ہیں جن کا سامنا مجھے اور تمہیں بہت حقیقت پسندی سے کرنا چاہیے۔ میں اپنے لئے تمہارے جذبات کی قدر کرتا ہوں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی زمانے میں، میں بھی تمہارے ساتھ انوالو تھا یا یہ کہہ لو کہ محبت کرتا تھا۔ میں آج بھی تمہارے لئے دل میں بہت خاص جذبات رکھتا ہوں اور ہمیشہ رکھوں گا مگر زندگی جذبات کے سہارے نہیں گزاری جاسکتی۔”
وہ رکا۔ امامہ کافی کے کپ سے اٹھتے دھویں کے پار اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
"تم جب سات آٹھ سال پہلے اپنا گھر چھوڑ رہی تھیں تو میں نے تمہیں سمجھایا تھا کہ اس طرح نہ کرو لیکن تم نے اس معاملے کو اپنی مرضی سے ہینڈل کیا۔ اپنے پیرنٹس کو مجھ سے شادی کے لئے کنوینس کرنے کے بجائے تم مجھے مجبور کرتی رہیں کہ میں تم سے چھپ کر شادی کرلوں۔ میں ایسا نہیں کرسکا اور نہ ہی یہ مناسب سمجھا۔ مذہب کی بات اپنی جگہ، مگر مذہب کے ساتھ معاشرہ بھی تو کوئی چیز ہوتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں اور جس کی ہمیں پرواہ کرنی چاہیے۔”
امامہ کو یقین نہیں آیا۔ وہ یہ سب اس شخص کے منہ سے سن رہی تھی جو۔۔۔۔۔۔
"تم تو چلی گئیں مگر تمہارے جانے کے بعد تمہارا اس طرح غائب ہوجانا کتنا بڑا سکینڈل ثابت ہوا اس کا تمہیں اندازہ نہیں۔ تمہارے پیرنٹس نے پریس میں یہ خبر نہیں آنے دی مگر پورے میڈیکل کالج کو تمہارےاس طرح چلے جانے کا پتا تھا۔ پولیس نے تمہاری بہت ساری فرینڈز اور کلاس فیلوز سے تمہارے بارے میں انوسٹی گیشن کی۔ زینب بھی اس میں شامل تھی۔ خوش قسمتی سے ہم بچ گئے۔”
وہ اٹھ کھڑا ہوگیا۔
"میں نے اتنے سال محنت کرکے اپنا مقام بنایا ہے۔ میں اتنا بہادر نہیں ہوں کہ میں تم سے شادی کرکے لوگوں کی چہ مگوئیوں کا نشانہ بنوں۔ میرا اٹھنا بیٹھنا ڈاکٹرز کی کمیونٹی میں ہے اور امامہ ہاشم کی میری بیوی کے طور پر واپسی مجھے اسکینڈلائز کردے گی۔ تم سے شادی کرکے میں لوگوں سے نظریں نہیں چرانا چاہتا۔ تم اتنے سال کہاں رہی ہو، کیسے رہی ہو، یہ بہت اہم سوالات ہیں۔ میرے پیرنٹس کو تمہاری کسی بات پر یقین نہیں آئے گاور مجھے لوگوں کی نظروں میں اپنا یہ مقام برقرار رکھنا ہے تم بہت اچھی ہو مگر لوگ سمجھتے ہیں کہ تم اچھی لڑکی نہیں ہو اور میں کسی اسکینڈلائزڈ لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا۔ میں برداشت نہیں کرسکتا کہ کوئی یہ کہے کہ میری بیوی کا کردار اچھا نہیں ہے۔ آئی ہوپ، تم میری پوزیشن کو سمجھ سکتی ہو۔”
کافی کے کپ سے اٹھتا دھواں ختم ہوچکا تھا مگر جلال انصر کا چہرہ ابھی کسی دھویں کے پیچھے چھپا نظر آرہا تھا یا پھر یہ اس کی آنکھوں میں اترنے والی دھند تھی جس نے جلال انصر کو غائب کردیا تھا۔
کرسی کے دونوں ہتھوں کا سہارا لیتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
"ہاں، میں سمجھ سکتی ہوں۔” اس نے اپنے آپ کو کہتے سنا۔ "خدا حافظ۔”
"آئی ایم سوری امامہ! ” جلال معذرت کررہا تھا۔ امامہ نے اسے نہیں دیکھا۔ وہ جیسے نیند کی حالت میں چلتے ہوئے کمرے سے باہر آگئی۔
شام کے سات بج چکے تھے، اندھیرا چھا چکا تھا۔ سڑکوں پر اسٹریٹ لائٹس اور نیون سائن بورڈز روشن تھے۔ سڑک پر بہت زیادہ ٹریفک تھی۔ اس پورے روڈ پر دونوں طرف ڈاکٹرز کے کلینک تھے۔ اسے یاد تھا کسی زمانے میں اس کی بھی خواہش تھی کہ اس کا بھی ایسا ہی کلینک ہو۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ بھی اپنے نام کے آگے اسی طرح کوالی فیکشنز کی ایک لمبی لسٹ دیکھنا چاہتی تھی بالکل ویسے ہی جس طرح جلال انصر کے نام کے ساتھ تھیں۔ بالکل ویسے ہی جس طرح اس روڈ پر لگے ہوئے بہت سے ڈاکٹرز کے نام کے آگے تھیں۔ یہ سب ہوسکتا تھا، یہ سب ممکن تھا، اس کے ہاتھ کی مٹھی میں تھا اگر وہ ۔۔۔۔۔ وہ بہت سال پہلے اپنے گھر سے نہ نکلی ہوتی۔
وہ بہت دیر تک جلال کے ہاسپٹل کے باہر سڑک پر کھڑی خالی الذہنی کی کیفیت میں سڑک پر دوڑتی ٹریفک کو دیکھتی رہی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ یہاں سے کہاں جائے اس نے ایک بار پھر مڑ کر ہاسپٹل کے ماتھے پر جگمگاتے الیکٹرک بورڈ پر ڈاکٹر جلال انصر کا نام دیکھا۔
"تم اچھی لڑکی ہو، مگر لوگ تمہیں اچھا نہیں سمجھتے۔”
اسے چند منٹ پہلے کہے ہوئے اس کے الفاظ یاد آئے، وہاں کھڑے اسے پہلی بار پتا چلا کہ اس نے اپنی پوری زندگی یک طرفہ محبت میں گزاری تھی۔ جلال انصر کو اس سے کبھی محبت تھی ہی نہیں ۔نہ ساڑھے آٹھ سال پہلے، نہ ہی اب۔۔۔۔۔ اس کو صرف امامہ کی ضرورت نہیں تھی، اس کے ساتھ منسلک باقی چیزوں کی بھی ضرورت تھی۔ اس کا لمبا چوڑا فیملی بیک گراؤنڈ۔۔۔۔۔۔ سوسائٹی میں اس کے خاندان کا نام اور مرتبہ۔۔۔۔۔۔ اس کے خاندان کے کانٹیکٹس۔۔۔۔۔ اس کے خاندان کی دولت۔۔۔۔۔۔ جس کے ساتھ نتھی ہوکر وہ جمپ لگا کر راتوں رات اپر کلاس میں آجاتا۔۔۔۔۔۔ا ور وہ اس خوش فہمی میں مبتلا رہی کہ وہ صرف اس کی محبت میں مبتلا تھا۔۔۔۔۔ اس کا خیا تھا کہ وہ ایک بار بھی اس کے کردار کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرے گا۔ وہ کم از کم یہ یقین ضرور رکھے گا کہ وہ غلط راستے پر نہیں چل سکتی مگر وہ پھر غلط تھی۔۔۔۔۔ اس کے نزدیک وہ اسکینڈلائزڈ لڑکی تھی جس کے دفاع میں اپنی فیملی یا دوسرے لوگوں سے کچھ کہنے کے لئے اس کے پاس کوئی لفظ نہیں تھا۔ ساڑھے آٹھ سال پہلے گھر چھوڑتے ہوئے وہ جانتی تھی کہ لوگ اس کے بارے میں بہت کچھ کہیں گے۔ وہ اپنے لئے کانٹوں بھرا راستہ، زہر اگلتی زبانیں اور طنز کرتی نظریں چن رہی تھی مگر یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان لوگوں میں جلال انصر بھی شامل ہوگا۔ زہر اگلتی باتوں میں ایک زبان اس کی بھی ہوگی۔ وہ زندگی میں کم ازکم جلال انصر کو اپنے کردار کے اچھا ہونے کے بارے میں کوئی صفائی یا وضاحت نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ اس کو کوئی صفائی دے ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے لفظوں نے ساڑھے آٹھ سال بعد پہلی بار اسے صحیح معنوں میں حقیقت کے تپتے ہوئے صحرا میں پھینک دیا تھا۔ وہ معاشرے کے لئے outcast بن چکی تھی۔
"تو امامہ ہاشم یہ ہے تمہاری اوقات، ایک اسکینڈلائزڈ اور داغ دار لڑکی اور تم اپنے آپ کو کیا سمجھے بیٹھی تھیں۔”
وہ فٹ پاتھ پر چلنے لگی۔ ہر بورڈ، ہر نیون سائن کو پڑھتے ہوئے۔۔۔۔۔ وہاں لگے ہوئے بہت سے ڈاکٹروں کے ناموں سے وہ واقف تھی۔ ان میں سے کچھ اس کے کلاس فیلوز تھے۔ کچھ اس سے جونیئر، کچھ اس سے سینئر اور وہ خود کہاں کھڑی تھی کہیں بھی نہیں۔
"تم دیکھنا امامہ! تم کس طرح ذلیل و خوار ہوگی، تمہیں کچھ بھی نہیں ملے گا، کچھ بھی نہیں۔”
اس کے کانوں میں ہاشم مبین کی آواز گونجنے لگی تھی۔ اس نے اپنے گالوں پر سیال مادے کو بہتے محسوس کیا۔ آس پاس موجود روشنیاں اب اس کی آنکھوں کو اور چندھیانے لگی تھیں۔ جلال انصر برا آدمی نہیں تھا۔ بس وہ، وہ نہیں تھا جو سمجھ کر وہ اس کی طرف گئی تھی۔ کیسا دھوکا تھا جو اس نے کھایا تھا۔ جان بوجھ کر کھلی آنکھوں کے ساتھ، وہ بھی ایک مادہ پرست تھا مکمل مادہ پرست۔ صرف اس کا یہ روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا اور اس کے لئے یہ سب ناقابل یقین تھا۔ وہ برا آدمی نہیں تھا اس کی اپنی اخلاقیات تھیں اور وہ ان کے ساتھ جی رہا تھا۔ امامہ ہاشم کو آج اس نے وہ اخلاقیات بتا دی تھیں۔ اس نے ایسی تضحیک اور تحقیر آٹھ سالوں میں پہلی بار دیکھی تھی اور وہ بھی اس شخص کے ہاتھوں جسے وہ خوبیوں کا مجموعہ سمجھتی رہی تھی اور خوبیوں کے اس مجموعے کی نظروں میں وہ کیا تھی؟ گھر سے بھاگی ہوئی ایک اسکینڈلائزڈ لڑکی۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو اس کی آنکھوں سے امڈ رہا تھا اور اس میں سب کچھ بہہ رہا تھا، سب کچھ اس نے بے رحمی کے ساتھ آنکھوں کو رگڑا۔ اپنی چادر کے ساتھ گیلے چہرے کو خشک کرتے ہوئے ایک رکشے کو روک کر وہ اس میں بیٹھ گئی۔
دروازہ سعیدہ اماں نے کھولا تھا۔ وہ سرجھکائے اس طرح اندر داخل ہوئی کہ اس کے چہرے پر ان کی نظر نہ پڑی۔
"کہاں تھیں تم امامہ؟ رات ہوگئی میرا تو دل گھبرا رہا تھا۔ ساتھ والوں کے گھر جانے ہی والی تھی میں کہ کوئی تمہارے آفس جاکر تمہارا پتا کرے۔”
سعیدہ اماں دروازہ بند کرکے تشویش کے عالم میں اس کے پیچھے آئی تھیں۔
"کہیں نہیں اماں! بس آفس میں کچھ کام تھا اس لئے دیر ہوگئی۔”
اس نے ان سے چند قدم آگے چلتے ہوئے پیچھے مڑے بغیر ان سے کہا۔”پہلے تو کبھی تمہیں آفس میں دیر نہیں ہوئی۔ پھر آج کیا ہوگیا کہ رات ہوگئی۔ آخر آج کیوں اتنی دیر روکا انہوں نے تمہیں؟” سعیدہ اماں کو اب بھی تسلی نہیں ہورہی تھی۔
"اس کے بارے میں میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ آئندہ دیر نہیں ہوگی۔” وہ اسی طرح اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے بولی۔
"کھانا گرم کردوں یا تھوڑی دیر بعد کھاؤگی؟” انہوں نے اس کے پیچھے آتے ہوئے پوچھا۔
"نہیں، میں کھانا نہیں کھاؤں گی۔ میرے سر میں درد ہورہا ہے۔ میں کچھ دیر کے لئے سونا چاہتی ہوں۔”
اس نے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
"درد کیوں ہورہا ہے؟ کوئی دوائی دے دوں یا چائے بنا دوں۔” سعیدہ اماں کو اور تشویش لاحق ہوئی۔
"اماں! پلیز مجھے سونے دیں۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہوئی تو میں آپ سے کہہ دوں گی۔”
اس کے سر میں واقعی درد ہورہا تھا۔ سعیدہ اماں کو شاید اندازہ ہوگیا کہ ان کی تشویش اس وقت اسے بے آرام کررہی ہے۔
"ٹھیک ہے تم سوجاؤ۔” وہ جانے کے لئے پلٹیں۔
امامہ نے اپنے کمرے کی لائٹ آن نہیں کی، اس نے اسی طرح اندھیرے میں دروازے کو بند کیا اور اپنےبستر پر آکر لیٹ گئی۔ اپنا کمبل کھینچ کر اس نے سیدھا لیٹتے ہوئے اپنی آنکھوں پر بازو رکھ لیا۔ وہ اس وقت صرف سونا چاہتی تھی۔ وہ کچھ بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی نہ جلال انصر سے ہونے والی کچھ دیر پہلے کی گفتگو نہ ہی کچھ اور۔۔۔۔۔۔ وہ رونا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔ اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی۔ اسے نیند کیسے آگئی یہ وہ نہیں جانتی تھی مگر وہ بہت گہری نیند سوئی تھی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ اس سے تین قدم آگے کھڑا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھاتی تو اس کا کندھا چھو لیتی۔ وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ وہ اس کے کندھے سے اوپر خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نور کے اس سیلاب کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں موجود ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے غلاف پر تحریر آیات کو باآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ آسمان پر موجود ستاروں کی روشنی کو یک دم بڑھتے محسوس کرسکتی تھی۔
ان میں سے آگے کھڑا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا۔ وہاں گونجنے والی واحد آواز اسی کی آواز تھی۔ خوش الحان آواز۔۔۔۔۔ اس نے بے اختیار اپنے آپ کو اس کے پیچھے وہی کلمات دہراتے پایا۔ اسی طرح جس طرح وہ پڑھ رہا تھا۔ مگر زیر لب پھر وہ اپنی آواز اس کی آواز میں ملانے لگی۔ اسی کی طرح زیر لب۔۔۔۔۔ پھر اس کی آواز بلند ہونے لگی پھر اس کو احساس ہوا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی آواز اس کی آواز کے ساتھ بلند نہیں کرپارہی تھی۔ اس نے کوشش ترک کردی۔ وہ اس کی آواز میں آواز ملاتی رہی۔
خانہ کعبہ کا دروازہ کھل چکا تھا۔ اس نے اس شخص کو آگے بڑھ کر دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے اسے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے دیکھا۔ وہ دعا کررہا تھا وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ نیچے کر لئے۔ وہ اب نیچے بیٹھ کر زمین پر سجدہ کررہا تھا، کعبہ کے دروازے کے سامنے۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ اب وہ کھڑا ہورہا تھا۔ وہ پلٹنے والا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی آواز شناسا تھی مگر چہرہ، چہرہ دیکھے بغیر۔۔۔۔۔۔ وہ اب مڑ رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ یکدم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ کمرے میں تاریکی تھی۔ چند لمحوں کے لئے اسے لگا وہ وہیں ہو، خانہ کعبہ میں۔ پھر جیسے وہ حقیقت میں واپس آگئی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلا دی اور پھر بیڈ پر آکر دوبارہ بیٹھ گئی۔ اسے خواب پوری جزئیات سمیت یاد تھا، یوں جیسے اس نے کوئی فلم دیکھی ہو، مگر اس آدمی کا چہرہ وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی۔ اس کے مڑنے سے پہلے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
"خوش الحان آواز، جلال انصر کے سوا کس کی ہوسکتی تھی۔” اس نے سوچا۔
"مگر وہ شخص دراز قد تھا۔ جلال انصر سانولا تھا، اس شخص کے احرام میں سے نکلے ہوئے کندھے اور بازوؤں کی رنگت صاف تھی اور اس کی آواز وہ شناسا تھی۔ وہ یہ پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ جلال کی آواز تھی یا کسی اور کی۔
خواب بہت عجیب تھا مگر اس کے سر کا درد غائب ہوچکا تھا اور وہ حیران کن طور پر پرسکون تھی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی۔ وال کلاک ایک بجا رہا تھا۔ امامہ کو یاد آیا وہ رات کو عشاء کی نماز پڑھے بغیر ہی سوگئی تھی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے نہ ہی سونے سے پہلے وضو کیا تھا۔ اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ سعیدہ اماں کے کمرے میں روشنی نہیں تھی۔ وہ سورہی تھیں۔ پورے گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں بلب جل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند کی موجودگی بھی بلب کی روشنی میں محسوس کی جاسکتی تھی۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ چڑھی سبز بیلیں سرخ اینٹوں کی دیواروں کے ساتھ بالکل ساکت تھیں۔ وہ وضو کرنے کے لئے صحن کے دوسری طرف موجود باتھ روم میں جانا چاہتی تھی مگر صحن میں جانے کے بجائے وہ برآمدے کے ستون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو اوپر کرتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھولتے ہوئے انہیں اوپر فولڈ کردیا۔ چند لمحوں کے لئے اسے جھرجھری آئی۔ خنکی بہت زیادہ تھی پھر وہ ان بیلوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بار پھر جلال انصر کے ساتھ شام کو ہونے والی ملاقات اسے یاد آرہی تھی مگر اس بار اس کی باتوں کی گونج اسے اشک بار نہیں کررہی تھی۔
دستگیری میری تنہائی کی تونے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پر جب ٹوٹتی ہیں
نور ہوجاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقش کف پا تیرا
ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ گزرے ہوئے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں یہ آواز۔۔۔۔۔ اور یہ الفاظ اس کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہوئے تھے اور پھر اسے کچھ دیر پہلے کے خواب میں سنائی دینے والی وہ دوسری آواز یاد آئی۔
"لبیک الھم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک لاشریک لک۔”
وہ آواز مانوس اور شناسا تھی مگر جلال انصر کی آواز کے علاوہ وہ اور کسی آواز سے واقف نہیں تھی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مقام ملتزم، خانہ کعبہ کا کھلا دروازہ غلاف کعبہ کی وہ روشن آیات۔۔۔۔۔ وہ پرسکون، ٹھنڈی معطر رات۔۔۔۔۔ خانہ کعبہ کے دروازے سے پھوٹتی وہ دھودھیا روشنی اور سجدہ کرتا تلبیہ پڑھتا وہ مرد۔۔۔۔۔ امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر تک وہ صحن میں اتری دھند میں نظریں جمائے اس آدمی کے بارے میں سوچتی رہی۔
اس آدمی کے برہنہ کندھے کی پشت پر ہلکے ہلکے بالوں کے زخم کا ایک مندمل شدہ نشان تھا۔ امامہ کو حیرت ہورہی تھی۔ خواب کی اس طرح کی جزئیات اسے پہلے کبھی یاد نہیں رہی تھیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ کو خواب میں دیکھا تھا اور وہاں بیٹھے اسے خواہش ہوئی تھی کہ کاش وہ کبھی اسی طرح مسجد نبوی ﷺ میں روضہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑی ہو اسی طرح مسجد نبوی ﷺ خالی ہو، وہاں صرف وہ ہو، وہ اندازہ نہیں کرسکی کہ وہ کتنی دیر وہاں اسی طرح بیٹھی رہی۔ وہ اپنے گردوپیش میں تب لوٹی تھی جب سعیدہ اماں تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے کی خاطر باہر صحن میں نکلی تھیں۔ امامہ کو وہاں اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی۔
"تمہارے سر کا درد کیسا ہے؟” اس کے پاس کھڑے ہوکر انہوں نے پوچھا۔
"اب تو درد نہیں ہے۔” امامہ نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔
"رات کو کھانا کھائے بغیر ہی سوگئی تھیں؟” وہ اس کے پاس برآمدے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
وہ خاموش رہی۔ سعیدہ اماں ایک گرم اونی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ امامہ نے ان کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکا دیا۔ اس کے سن چہرے کو گرم شال سے ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوا۔
"اب تم شادی کرلو آمنہ!۔” سعیدہ اماں نے اس سے کہا وہ اسی طرح گرم شال میں اپنا چہرہ چھپائے رہی۔ سعیدہ اماں پہلی بار یہ بات نہیں کہہ رہی تھیں۔
"آپ کردیں۔” وہ ہمیشہ ان کی اس بات پر خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ کیوں؟ وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن آج پہلی بار وہ خاموش نہیں رہی تھی۔
"تم سچ کہہ رہی ہو؟” سعیدہ اماں اس کی بات پر حیران ہوئی تھیں۔
"میں سچ کہہ رہی ہوں۔” امامہ نے سر ان کے کندھے سے اٹھا لیا۔
"تمہیں کوئی پسند ہے؟” سعیدہ اماں نے اس سے پوچھا۔ وہ سرجھکائے صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
"کوئی مجھے پسند ہے؟” نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔” سعیدہ اماں کو اس کی آواز بھرائی ہوئی لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتیں اس نے ایک بار پھر ان کی شال میں اپنا چہرہ چھپا لیا۔
"تمہاری شادی ہوجائے تومیں بھی انگلینڈ چلی جاؤں گی۔”
انہوں نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے انہیں احساس ہوا کہ وہ ان کی شال میں منہ چھپائے ہچکیوں سے رو رہی تھی۔
"آمنہ! آمنہ بیٹا کیا ہوا؟” انہوں نے پریشان ہوکر اس کا چہرہ اٹھانے کی کوشش کی۔
وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ لگ کر روتی رہی۔
"اللہ کے لئے۔۔۔۔۔ کچھ تو بتاؤ، کیوں رو رہی ہو؟” وہ دل گرفتہ ہوگئیں۔
"کچھ نہیں بس۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ سر میں درد ہورہا ہے۔” انہوں نے زبردستی اس کا گیلا چہرہ اوپر کیا تھا۔ وہ اب اپنی آستینوں سے چہرہ پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سعیدہ اماں سے آنکھیں نہیں ملائی تھیں۔ سعیدہ اماں ہکا بکا اسے باتھ روم کی طرف جاتے دیکھتی رہیں۔
سعیدہ اماں اس کی شادی کی بات کرنے والی اکیلی نہیں تھیں۔ اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے ایک بار پھر اس سے شادی کا ذکر کیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تب اس نے کیوں انکار کردیا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اب آزاد تھی۔
"مجھے کچھ عرصہ جاب کرلینے دیں اس کے بعد میں شادی کرلوں گی۔” اس نے ڈاکٹر سبط علی سے کہا تھا۔ شاید یہ پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر سبط علی پر مالی طور پر ایک بوجھ بننے کا احساس تھا، جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتی تھی یا پھر کہیں اس کے لاشعور میں یہ چیز تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس کی شادی پر ایک بار پھر اخراجات کرنے پڑیں گے اور وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ ان اخراجات کے لئے خود کچھ جمع کرنے کی کوشش کرلے۔ اس نے یہ بات ڈاکٹر سبط علی کو نہیں بتائی تھی مگر اس نے ان سے جاب کی اجازت لے لی تھی۔
شاید وہ کچھ عرصہ ابھی مزید جاب کرتی رہتی، مگر جلال انصر سے اس ملاقات کے بعد وہ ایک تکلیف دہ ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئی تھی اور اس نے یکدم سعیدہ اماں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ وہ نہیں جانتی تھی۔ سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس بات کا ذکر کیا یا نہیں مگر وہ خود ان دنوں مکمل طور پر اس کے لئے رشتے کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور اس کوشش کا نتیجہ فہد کی صورت میں نکلا تھا۔
فہد ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہا تھا اور اس کی شہرت بھی بہت اچھی تھی۔ فہد کے گھر والے اسے پہلی ہی بار دیکھ کر پسند کرگئے تھے اور اس کے بعد سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس رشتے کی بات کی۔
ڈاکٹر سبط علی کو کچھ تامل ہوا۔۔۔۔۔ شاید وہ اس کی شادی اب بھی اپنے جاننے والوں میں کرنا چاہتے تھے، مگر سعیدہ اماں کی فہد اور اس کے گھر والوں کی بے پناہ تعریفوں کے بعد اور فہد اور اس کے گھر والوں سے خود ملنے کے بعد انہوں نے سعیدہ اماں کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ انہوں نے فہد کے بارے میں بہت چھان بین کروائی تھی اور پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے تھے۔
فہد کے گھر والے ایک سال کے اندر شادی کرنا چاہتے تھے۔ لیکن پھر اچانک انہوں نے چند ماہ کے اندر شادی پر اصرار کرنا شروع کردیا۔ یہ صرف اتفاق ہی تھا کہ ڈاکٹر سبط علی اسی دوران اپنی کچھ مصڑوفیات کی وجہ سے انگلینڈ میں تھے جب فہد کے گھر والوں کے اصرار پر تاریخ طے کردی گئی تھی۔ سعیدہ اماں فون پر ان سے مشورہ کرتی رہی تھیں اور ڈاکٹر سبط علی نے انہیں اپنا انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں نہیں آسکتے تھے، البتہ انہوں نے کلثوم آنٹی کو واپس پاکستان بھجوا دیا تھا۔
اس کی شادی کی تیاری کلثوم آنٹی اور مریم نے ہی کی تھی جو راولپنڈی سے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی سسرال لاہور آگئی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی نے اس کی شادی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فون پر اس سے طویل گفتگو کی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیوں کی شادی ان کے اپنے خاندان میں ہی ہوئی تھی اور ان کے سسرال میں سے کسی نے بھی جہیز نہیں لیا تھا، مگر ڈاکٹر سبط علی نے تینوں بیٹیوں کے جہیز کے لئے مخصوص کی جانے والی رقم انہیں تحفتاً دے دی تھی۔
"ساڑھے آٹھ سال پہلے جب آپ میرے گھر آئی تھیں اور میں نے آپ کو اپنی بیٹی کہا تھا تو میں نے آپ کے لئےبھی کچھ رقم رکھی تھی۔ وہ رقم آپ کی امانت ہے۔ آپ اسے ویسے لے لیں یا پھر میں مریم اور کلثوم سے کہہ دوں گا کہ وہ آپ کے جہیز کی تیاری پر اسے خرچ کریں۔ سعیدہ آپا کی خواہش تھی کہ شادی ان کے گھر پر ہو ورنہ میں چاہتا تھا کہ یہ شادی میرے گھر پر ہو۔ آپ کے گھر پر۔۔۔۔۔” انہوں نے اس سے کہا تھا۔
"مجھے اس بات پر بہت رنج ہے کہ میں اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکوں گا مگر شاید اس میں ہی کوئی بہتری ہے۔ میں پھر بھی آخری وقت تک کوشش کروں گا کہ کسی طرح شادی پرآجاؤں۔”
وہ ان کی باتوں کے جواب میں بالکل خاموش رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا نہ ہی یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر اپنی رقم خرچ کرے گی اور نہ ہی یہ کہ وہ شادی ان کی رقم سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس دن اس کا دل چاہا ان کا ایک اور احسان لینے کو۔ وہ اس پر اتنے احسان کرچکے تھے کہ اب اسے ان احسانوں کی عادت ہونے لگی تھی۔ اسے صرف ان سے ایک گلہ تھا وہ آخر اس کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کررہے تھے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
فہد کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ شادی سادگی سے ہو اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ امامہ خود بھی شادی سادگی سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ فہد کے گھر والوں کا سادگی پر اصرار دراصل کچھ اور وجوہات کی بناء پر تھا۔
اس کا نکاح مہندی والی شام کو ہونا تھا، مگر اس شام کو سہ پہر کے قریب فہد کے گھر والوں کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ نکاح اگلے دن یعنی شادی والے دن ہی ہوگا۔ تب تک اسے یا سعیدہ اماں کو کوئی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ فہد کے گھر میں کوئی مسئلہ تھا۔ مہندی کی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی تقریب نہیں تھی۔ صرف سعیدہ اماں کے بہت قریبی لوگ تھے یا پھر نزدیکی ہمسائے۔ نکاح کی تقریب کے لئے جس کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کو سرو کردیا گیا۔
شادی کی تقریب بھی سادگی سے گھر پر ہی ہونی تھی۔ چار بجے بارات کو آنا تھا اور چھے بجے رخصتی ہونی تھی۔ لیکن بارات آنے سے ایک گھنٹہ پہلے فہد کے گھر والوں نے سعیدہ اماں کو فہد کی روپوشی کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے اس رشتے سے معذرت کرلی۔
امامہ کو چار بجے تک اس سارے معاملے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ فہد کے گھر سے عروسی لباس پہلے بھجوادیا گیا تھا اور وہ اس وقت وہ لباس پہنے تقریباً تیار تھی جب مریم اس کے کمرے میں چلی آئی۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اس نے امامہ کو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کہا، اس نے امامہ کو فوری طور پر یہ نہیں بتایا تھا کہ فہد کے گھر والے انکار کرکے جاچکے تھے۔ اس نے امامہ سے صرف یہی کہا کہ فہد کے گھر والوں نے شادی کینسل کردی ہے اس کے گھر میں کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ یہ بتا کر بہت افراتفری میں کمرے سے باہر نکل گئی۔ امامہ نے کپڑے تبدیل کرلئے لیکن اس وقت اس کی چھٹی حس نے اسے اس پریشانی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے مریم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
کپڑے تبدیل کرکے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی اور باہر موجود لوگوں کے تاثرات نے اس کے تمام شبہات کی تصدیق کردی تھی۔ وہ سعیدہ اماں کے کمرے میں چلی گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کلثوم آنٹی، میمونہ نورالعین آپا،۔۔۔۔۔۔ ہمسائے میں رہنے والی چند عورتیں، مریم اور سعیدہ اماں۔۔۔۔۔ مریم ،سعیدہ اماں کو پانی پلا رہی تھی۔ وہ بہت نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کے دل کی دھڑکن رکی۔ انہیں کیا ہوا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر پڑیں۔ میمونہ آپا اس کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
"آمنہ! تم باہر جاؤ۔” انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
"اماں کو کیا ہوا ہے؟” وہ ان کی طرف بڑھ گئی۔ کلثوم آنٹی نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر نکالنا شروع کردیا۔ وہ سعیدہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
"انہیں کیا ہوا ہے؟” اس نے بے تابی سے مریم سے پوچھا۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ سعیدہ اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ امامہ کو دیکھ رہی تھیں مگر اسے یوں لگا جیسے وہ اس وقت اسے دیکھ نہیں پارہیں۔ گلاس ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے اسے ساتھ لگا کر رونا شروع کردیا۔
کمرہ خالی ہوچکا تھا۔ صرف ڈاکٹر سبط علی کی فیملی وہاں تھی۔
"کیا ہوا ہے اماں؟ مجھے بتائیں۔” امامہ نے انہیں نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
"فہد نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے جاکر کسی اور سے شادی کرلی ہے۔” مریم نے مدھم آواز میں کہا۔ "وہ لوگ کچھ دیر پہلے معذرت کرنے آئے تھے۔ وہ لوگ یہ رشتہ ختم کرگئے ہیں۔”
چند منٹ تک وہ بالکل ساکت رہی تھی۔ خون کی گردش، دل کی دھڑکن، چلتی ہوئی سانس۔۔۔۔۔۔ چند سیکنڈز سب کچھ جیسے رک گیا تھا۔
"کیا میرے ساتھ یہ بھی ہونا تھا؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
"کوئی بات نہیں اماں! آپ کیوں رو رہی ہیں؟” اس نے بڑی سہولت سے سعیدہ اماں کے آنسو صاف کیے۔ سب کچھ ایک بار پھر بحال ہوگیا تھا سوائے اس کی رنگت کے وہ فق تھی۔
"آپ پریشان نہ ہوں۔” سعیدہ اماں کو اس کی باتوں پر اور رونا آیا۔
"یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔۔۔” امامہ نے انہیں بات مکمل کرنے نہیں دی۔
"اماں! چھوڑیں ناں۔ کوئی بات نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ لیٹ جائیں، کچھ دیر آرام کرلیں۔” وہ انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
"میں تمہارے دل کی حالت کو سمجھتی ہوں۔ میں تمہارے غم کو جانتی ہوں۔ آمنہ! میری بچی مجھے معاف کردو۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔” انہیں تسلی نہیں ہوپارہی تھی۔
"مجھے کوئی غم نہیں ہے اماں! کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سعیدہ اماں سے کہا۔
سعیدہ اماں یکدم روتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
امامہ کسی سے کوئی بات کہے بغیر ایک بار پھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے بیڈ پر تمام چیزیں اسی طرح پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے انہیں سمیٹنا شروع کردیا۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت وہاں بیٹھی رو رہی ہوتی مگر وہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔
"اگر میں جلال کے نہ ملنے پر صبر کرسکتی ہوں تو یہ تو پھر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ میری کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔” اس نے اپنے عروسی لباس کو تہ کرتے ہوئے سوچا۔
"زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، یہاں بھی لوگوں کے سامنے نظریں چرا کر اور سرجھکا کر چلنا پڑے گا۔ کچھ باتیں اور بے عزتی برداشت کرنی پڑے گی تو پھر کیا ہوا۔ اس میں میرے لئے نیا کیا ہے۔”
مریم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ چیزیں سمیٹنے لگی۔
"ابو کو فون کردیا ہے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
وہ پہلی بار کچھ جھنجھلائی۔
"کیوں خوامخواہ تم لوگ انہیں تنگ کررہے ہو۔ انہیں وہاں سکون سے رہنے دو۔”
"اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور تم۔۔۔۔۔۔”
اس نے مریم کی بات کاٹ دی۔
"مریم میری زندگی میں اس سے بڑے حادثے ہوچکے ہیں۔ یہ کیا معنی رکھتا ہے۔ مجھے تکلیف سہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ تم سعیدہ اماں کو تسلی دو۔ مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہو اور ابو کو بھی خوامخواہ تنگ نہ کرو۔ وہ وہاں پریشان ہوں گے۔”
مریم کو چیزیں سمیٹتے ہوئے وہ ابنارمل لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی۔ کلثوم آنٹی، سعیدہ اماں کے ساتھ یکدم اندر آگئیں۔ امامہ کو ان دونوں کے چہرے بہت عجیب لگے۔ کچھ دیر پہلے کے برعکس وہ دونوں بے حد خوش نظر آرہی تھیں۔ اس کے کسی سوال سے پہلے کلثوم آنٹی نے اسے سالار کے بارے میں بتانا شروع کردیا۔ وہ دم بخود ان کی باتیں سن رہی تھی ۔
"اگر تمہیں اعتراض نہ ہو تو تمہارا نکاح اس سے کردیا جائے؟” آنٹی نے اس سے پوچھا۔
"سبط علی اسے بہت اچھی طرح جانتے تھے، وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔” وہ اسے تسلی دینے کی کوشش کررہی تھیں۔
"اگر ابو اسے جانتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ جیسا بہتر سمجھیں کریں۔”
"اس کا ایک دوست تم سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے۔” وہ اس مطالبے پر کچھ حیران ہوئی تھی مگر اس نے فرقان سے ملنے سے انکار نہیں کیا۔
"میرے دوست نے آٹھ نو سال پہلے ایک لڑکی سے نکاح کیا تھا۔ اپنی پسند سے۔”
وہ چپ چاپ فرقان کو دیکھتی رہی۔
"وہ آپ سے شادی پر تیار ہے، مگر وہ اس لڑکی کو طلاق دینا نہیں چاہتا۔ کچھ وجوہات کی بنا پر وہ لڑکی اس کے ساتھ نہیں رہی لیکن وہ اب بھی اسے اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ کو یہ سب بتا دوں تاکہ اگر آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو تو اس بات کو یہیں ختم کردیں گے لیکن میں آپ سے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ شاید وہ لڑکی اسے کبھی بھی نہ ملے، آٹھ نو سال سے اس کا میرے دوست کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ ایک موہوم سی امید ہے، جس پر وہ اس کا انتظار کررہا ہے۔ ڈاکٹر سبط علی صاحب آپ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں اور اس حوالے سے آپ میری بہن کی طرح ہیں۔ اس وقت اس صورت حال سے نکلنے کے لئے یہی بہتر ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔ وہ لڑکی اسے کبھی بھی نہیں ملے گی کیونکہ نہ تو وہ اسے پسند کرتی تھی نہ ہی آج تک اس نے اس سے کوئی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور پھر اتنا لمبا عرصہ گزر چکا ہے۔”
وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
"دوسری بیوی۔۔۔۔۔ تو امامہ ہاشم یہ ہے تمہاری وہ تقدیر جو اب تک تم سے پوشیدہ تھی۔” اس نے سوچا۔
"اگر ڈاکٹر سبط علی اس شخص کے بارے میں یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس کو میرے لئے منتخب کررہے ہیں تو ہوسکتا ہے میرے لئے یہی بہتر ہو۔ میں جلال کی بھی تو دوسری بیوی بننے کے لئے تیار تھی، اس سے محبت کرنے کے باوجود۔۔۔۔۔ اور اس شخص کی بیوی بننے پر مجھے کیا اعتراض ہوگا جس سے مجھے محبت بھی نہیں ہے۔”
اسے ایک بار پھر جلال یاد آیا۔
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کی بیوی جب بھی آئے وہ اسے رکھ سکتے ہیں۔ میں بڑی خوشی سے ان کو یہ اجازت دیتی ہوں۔” مدھم آواز میں کسی ملال کے بغیر اس نے فرقان سے کہا۔
پندرہ منٹ بعد اسے پہلا شاک اس وقت لگا تھا جب نکاح خواں نے اس کے سامنے سالار سکندر کا نام لیا تھا۔
"سالار سکندر۔۔۔۔۔ ولد سکندر عثمان۔” اسے نکاح خواں کے منہ سے نکلنے والے لفظو ں سے جیسے کرنٹ لگا تھا۔وہ نام ایسے نہیں تھے جو ہر شخص کے ہوتے۔

عمیرہ احمد کے ناول پیرِ کامل سے اقتباس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
عمیرہ احمد کے ناول پیرِ کامل سے اقتباس