آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ڈیجیٹل دور میں تعلیم کا نیا رخ

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے ہمارے رہن سہن، کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے کے طریقوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ سوچنا بھی محال تھا کہ کوئی بچہ یا نوجوان بغیر اسکول گئے اپنے گھر سے ہی دنیا کے بہترین اساتذہ سے علم حاصل کر سکے گا، لیکن آج یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے۔ آن لائن اسکولنگ نہ صرف ایک سہولت کے طور پر ابھری ہے بلکہ مستقبل کی تعلیم کے لیے ایک مضبوط راستہ بھی بن چکی ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کووِڈ 19 کی وبا کے دوران جب اسکول اور کالج بند ہوئے تو آن لائن تعلیم نے لاکھوں طلبہ کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ ایک غیر متوقع تجربہ تھا جس نے والدین، اساتذہ اور طلبہ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ تعلیم کا مستقبل صرف کلاس روم تک محدود نہیں۔ گو کہ ابتدا میں انٹرنیٹ کی کمی، ٹیکنالوجی کی ناواقفیت اور بجلی کے مسائل رکاوٹ بنے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بحران نے تعلیمی شعبے کو ایک نئی سمت دی۔

آن لائن اسکولنگ کے سب سے بڑے فوائد میں سہولت اور لچک شامل ہیں۔ اب ایک بچہ کسی بھی شہر یا دیہات میں بیٹھ کر بڑے شہروں یا بیرون ملک کے بہترین اداروں سے تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ طلبہ اپنی رفتار کے مطابق لیکچر دیکھ سکتے ہیں، بار بار دہرا سکتے ہیں اور ریکارڈ شدہ مواد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن اسکولنگ تعلیمی اخراجات میں بھی کمی لاتی ہے۔ نقل و حمل، یونیفارم اور دیگر اخراجات سے بچت ہوتی ہے۔ خاص طور پر وہ والدین جو دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، وہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانے کے لیے آن لائن کلاسز کو بہترین موقع سمجھتے ہیں۔

اگرچہ آن لائن اسکولنگ کئی سہولتیں فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ کی رسائی ہر گھر تک ممکن نہیں، آن لائن تعلیم سب کے لیے یکساں نہیں بن پاتی۔ دیہی علاقوں میں بچوں کے پاس اسمارٹ فون یا لیپ ٹاپ موجود نہیں ہوتے، اور اگر ہوں بھی تو بجلی کی عدم دستیابی تعلیم کے اس نئے نظام میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مزید یہ کہ روایتی کلاس روم میں جو سماجی میل جول، ٹیم ورک اور شخصیت سازی کے مواقع ملتے ہیں، وہ آن لائن اسکولنگ میں محدود ہو جاتے ہیں۔ ایک بچہ کتابی علم تو حاصل کر لیتا ہے، مگر دوستوں کے ساتھ کھیلنے، بحث کرنے اور براہِ راست استاد سے رہنمائی لینے کے مواقع کم ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں آن لائن اسکولنگ کے حوالے سے رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نجی ادارے اپنی ایپلیکیشنز اور پورٹل کے ذریعے بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ کچھ یونیورسٹیاں آن لائن ڈگری پروگرامز بھی متعارف کرا چکی ہیں۔ حکومت بھی "ڈیجیٹل پاکستان” کے منصوبے کے تحت تعلیم میں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر انٹرنیٹ کی سہولت ہر علاقے میں فراہم کر دی جائے اور اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دی جائے تو آن لائن اسکولنگ ملک کے تعلیمی مسائل کا بڑا حل بن سکتی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں آن لائن اسکولنگ ایک متوازی تعلیمی نظام بن چکی ہے۔ امریکہ، یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں ہزاروں بچے مکمل طور پر آن لائن اسکولز میں داخل ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف بنیادی تعلیم بلکہ ہنر پر مبنی کورسز بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے طلبہ عملی زندگی کے لیے زیادہ تیار ہو جاتے ہیں۔

مستقبل کا زمانہ ڈیجیٹل ہے۔ ایسے میں آن لائن اسکولنگ کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ آن لائن نصاب کو معیاری بنائے، اساتذہ کو ٹیکنالوجی میں ماہر کرے اور طلبہ کو ڈیجیٹل اوزار فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی یہ شعور دینا ضروری ہے کہ آن لائن تعلیم صرف ایک مجبوری نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے۔

آن لائن اسکولنگ تعلیمی دنیا میں ایک انقلاب ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو نہ صرف بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر سکتا ہے بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیمی فرق کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور والدین مل کر اس نظام کو فروغ دیں تو آنے والے وقت میں پاکستان کا ہر بچہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے جدید اور معیاری تعلیم حاصل کر سکے گا۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button