ایک بند کمرہ، چار سائے اور اقتدار کی آخری حد
یہ کمرہ عام کمروں جیسا نہیں تھا۔ یہاں لفظ بولنے سے پہلے تولے جاتے تھے اور خاموشی بھی اجازت لے کر آتی تھی۔ میز پر رکھی فائلیں ماضی، حال اور اندیشوں کی نمائندہ تھیں۔ باہر شہر تھا، اندر ریاست۔
سب سے پہلے صاحبِ تخت نے بات شروع کی۔
اقتدار کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ آدمی خود کو لازم سمجھنے لگتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے، جو خود کو ناگزیر سمجھ بیٹھے، وہ نظام کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ سیاست ضد سے نہیں، وقت کے شعور سے چلتی ہے۔
سامنے بیٹھے بزرگ سیاست داں نے سر اٹھایا۔
میں نے طاقت کو عدالت کے کمرے میں بھی دیکھا ہے اور تاریخ کی کتاب میں بھی۔ ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب نظام یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کون بوجھ ہے اور کون برداشت۔ اس کے بعد نام اہم نہیں رہتے، رویے اہم ہو جاتے ہیں۔
منتظمِ شہر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
ریاست روزانہ کے معرکوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ جب فیصلے عقل کے بجائے ہجوم کے شور پر ہونے لگیں تو معیشت سب سے پہلے انکار کرتی ہے۔ ہم نے بار بار کہا کہ نظم کو مذاق نہ بناؤ۔
اب تک خاموش بیٹھے سالارِ عسکریہ نے نظریں اٹھائیں۔
ریاست آئین سے چلتی ہے، جذبات سے نہیں۔ جب ایک شخص خود کو ریاست کے برابر لا کھڑا کرے، جب ہر اختلاف کو دشمنی اور ہر ادارے کو مشکوک قرار دیا جائے، تو یہ سیاسی اختلاف نہیں رہتا، یہ ریاستی مسئلہ بن جاتا ہے۔
صاحبِ تخت نے کرسی سے ٹیک لگائی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی اور کو بولنے نہیں دیتا۔ سیاست میں جب صرف ایک آواز جائز ٹھہرے تو باقی سب خاموش نہیں ہوتے، ردعمل بن جاتے ہیں۔
بزرگ سیاست داں نے گہری آواز میں کہا۔
میں نے ضد کی سیاست کے انجام دیکھے ہیں۔ وہ خود کو تاریخ کا مرکز سمجھنے لگا ہے، حالانکہ تاریخ کبھی کسی ایک شخص کے گرد نہیں گھومتی۔ تاریخ نظام کو یاد رکھتی ہے، ناموں کو نہیں۔
منتظمِ شہر نے بات آگے بڑھائی۔
عوام کو امید کے نام پر بے چینی دی گئی۔ ہر ناکامی کے بعد ایک نیا الزام، ہر سوال کے جواب میں ایک نیا دشمن۔ اس عمل نے ریاست کو نہیں، صرف انتشار کو مضبوط کیا۔
سالارِ عسکریہ کی آواز اس بار سخت تھی۔
جب وردی کو سیاسی بیانیے میں گھسیٹا جائے، جب سپاہی کی قربانی کو دلیل بنایا جائے، تو یہ ناقابل قبول ہو جاتا ہے۔ ریاست اپنے محافظ کو سیاست کا مہرہ بننے کی اجازت نہیں دیتی۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی، مگر یہ خاموشی عارضی تھی۔
پھر صاحبِ تخت نے وہ جملہ کہا جو ہوا میں ٹھہر گیا۔
وہ اب محض ایک سیاسی فریق نہیں رہا۔ اس نے خود کو نظام کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ اور نظام کسی ایک فرد کے انکار سے نہیں رکتا۔
بزرگ سیاست داں نے بات مکمل کی۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سیاست ختم ہو جاتی ہے اور فیصلہ شروع ہوتا ہے۔ وہ اب قابل اختلاف نہیں رہا، وہ قابل قبول بھی نہیں رہا۔ سیاست میں یہ آخری مقام ہوتا ہے۔
منتظمِ شہر نے آہستہ کہا۔
ریاست بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی۔ جب حدود بار بار پامال ہوں تو پھر دروازے بند بھی کیے جاتے ہیں۔
سالارِ عسکریہ نے آخری بات کہی۔
ریاست کسی ایک بیانیے کی یرغمال نہیں۔ جو خود کو قانون سے اوپر سمجھے، وہ خود کو نظام سے باہر کر لیتا ہے۔ یہ انتقام نہیں، بقا کا اصول ہے۔
دیوار پر لگی گھڑی بولی۔
کمرے میں پھر خاموشی تھی۔
یہ خاموشی کسی مکالمے کی نہیں،
ایک فیصلے کی تھی۔
اور ایسے فیصلے تاریخ میں لکھے نہیں جاتے،
صرف محسوس کیے جاتے ہیں۔
یوسف صدیقی








