آپ کا سلاماسلامی گوشہڈاکٹر الیاس عاجزنعتیہ کلام ﷺ

میرا رونا بھی عبث ہے میرا ہنسنا ہے عبث

ایک اردو نعتﷺ از ڈاکٹر الیاس عاجز

میرا رونا بھی عبث ہے میرا ہنسنا ہے عبث
عشقِ احمدؐ کے بنا اب جینا مرنا ہے عبث

منکشف جس پر نہ ہو اسرارِ بطحا کا جمال
اس کا پھر افلاک کی جانب بھی اڑنا ہے عبث

جب زباں پر نامِ نامی آگیا سرکارؐ کا
گردشِ دوراں کے طوفانوں سے ڈرنا ہے عبث

عشقِ احمد میں گزرتی گر نہیں یہ زندگی
پھر لہو کا اس رگِ جاں میں بھی بہنا ہے عبث

قلبِ پُر خوں میں نہ ہو جب تک ہوائے شہرِ یار
تب تک نخلِ آرزو کا دل میں اگنا ہے عبث

جس کے در پر انبیاءؑ دیتے ہیں آ کر حاضری
اس سے ہٹ کر دوسروں کے در پہ رُکنا ہے عبث

ان کی آمد سے ہے چھائی فصلِ ہستی پر بہار
ان کے ہوتے کاغذی پھولوں کا کھلنا ہے عبث

منزلِ مقصود جب ٹھہری غبارِ راہِ عشق
گردِ عالم میں مسافر کا یہ تھکنا ہے عبث

خاکِ طیبہ جب بنی ہے سرمہِ چشمِ بصیر
پھر کسی بھی دشتِ بے منزل میں پھرنا ہے عبث

ہو نہ شامل جب ثنائے صاحبِ لولاک بھی
تب تلک قرطاس پر اک لفظ لکھنا ہے عبث

جن کے قدموں کی بدولت خاک ٹھہری کیمیا
ان کی چوکھٹ چھوڑ کر دامن کا بھرنا ہے عبث

جب مدینے کی ہوا بخشے مسیحائی ہمیں
عافیت کی جستجو میں ہر سو پھرنا ہے عبث

نقدِ جاں دے کر خریدوں میں غلامی آپؐ کی
نفعِ دنیا کے لیے پھر میرا کڑھنا ہے عبث

نامِ "عاجز” بن گیا ہے جب تری نعتوں کا جز
فخرِ عالم اب زمانے سے بھی ڈرنا ہے عبث

نقشِ پا مل جائیں جب شاہِ دوعالم کے ہمیں
پھر کسی بھٹکے ہوئے رہرو سے ملنا ہے عبث

دستِ ساقی میں تلاطم ہے مئے توحید کا
بادہ خواروں کا کنارے پر ہی رکنا ہے عبث

بندگی کا رخ اگر سوئے مدینہ ہی نہیں
پھر جبیں کا خاکِ سجدہ پر بھی دھرنا ہے عبث

ہو نہ شامل نعتِ سرورؐ گر ہماری بات میں
پھر فصاحت سے زباں کا کچھ بھی کہنا ہے عبث

عاجزی "عاجز” اگر مقصودِ ایماں ہے ترا
ذکرِ سرورؐ کے بنا پھر جینا مرنا ہے عبث

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button