اردو نظمشعر و شاعریناہید ورک

بے بسی

ناہید ورک کی اردو نظم

بے بسی

بے رنگ دن

بے موج شامِ ذات ہے
میری طلب کے سب نشاں
دل بن کے میرے گرد بکھرے ہیں مگر
دھڑکن سے ہر اک سانس تک
آزار بڑھتا جا رہا ہے
(حبس گھٹتا ہی نہیں)
سب حادثے
جو دل کی تہہ میں ہوتے ہیں
ان کو بھلائیں کس طرح؟
میری خموشی
دھڑکنوں میں
گونجتی رہتی ہے لیکن
آرزو کے نرد بانوں پر قدم
چلتے ہوئے رکتے نہیں!!

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button