15 نومبر, 2025

    بھلا اجڑے گھروندوں سے

    ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا
    18 مارچ, 2026

    ہو سکے تو آ جاؤ بارشوں کے موسم میں

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    اے دست کار!

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    19 اگست, 2020

    پوچھتے مت کیوں بنی سوگواری کی حالت

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    منتظر ہیں پنگھٹوں کے راستے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    24 مارچ, 2020

    بابِ حریمِ حرف کو کھولا نہیں گیا

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    25 اپریل, 2020

    بجا ہنگامہ آرائی ہماری

    عارف امام کی اردو غزل
    5 مئی, 2020

    دیکھتا ہوں پھول اور کانٹے

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2019

    جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا

    غزل از اکبر الہ آبادی
    2 دسمبر, 2019

    پہلے قدموں پہ مجھے قیس نے ارشاد کیا

    ایک اردو غزل از منیر جعفری
    14 نومبر, 2021

    مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا

    عمران سیفی کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    خاموشیوں کے بانے مجھے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    وہ ترک مست کسو کی خبر نہیں رکھتا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 مارچ, 2026

    ہر راحت جاں لمحے سے افتاد کی ضد ہے

    اکرام اعظم کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button