آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری
بزدلوں کے نیچے کبھی افلاک نہیں ہوتا
نگار فاطمہ انصاری کی ایک اردو غزل
بزدلوں کے نیچے کبھی افلاک نہیں ہوتا
ہیرا گر ٹوٹ بھی جاۓ تو خاک نہیں ہوتا
میری موت پے روتے ہیں مجھ پےہنسنے والے
اور ایک ستمگر ہے جو نمناک نہیں ہوتا
اب تھم تھم کر کہتی ہے وحشتے تنہائی
نفس کے تقاضوں پے چاک نہیں ہوتا
بہت مشکل ہے دل شکستہ کی معافی
معافی مانگنے سے غم کا ادراک نہیں ہوتا
لوگ کہتے ہیں کہ رایگاں جاۓ گا یہ سفر
دل کہتا راہ عشق میں خاشاک نہیں ہوتا
نگار فاطمہ انصاری








