20 اکتوبر, 2025

    کون درد بانٹے گا کون غم اٹھائے گا

    ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل
    8 فروری, 2026

    یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 ستمبر, 2019

    آخری ٹیس آزمانے کو

    ادا جعفری کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    12 مارچ, 2020

    نظروں کی گفتگو کہیں تحریر تو نہیں

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    15 اکتوبر, 2025

    ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    اے دست کار!

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    21 مئی, 2024

    ہر ایک رُت میں اداس نسلوں‌

    زاہد فخری کی ایک اردو غزل
    14 نومبر, 2025

    غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے

    ایک اردو غزل از کویتا غزل مہرا
    11 نومبر, 2025

    گرے مکاں میں دبی کہکشاں

    حارث بلال کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    خاموشی رات کی دیکھتا ہوں

    ایک غزل از وصی شاہ
    12 اکتوبر, 2025

    ظالم کو دوں دعائیں میں

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    26 مارچ, 2023

    چنگ و رباب لے لیے تلوار کے عوض

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    20 مارچ, 2020

    تیرے جیسا نہ کوئی اور ملا تیرے بعد

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button