3 دسمبر, 2019

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

    محسن نقوی کی اردو غزل
    29 جون, 2020

    یاں ہم براے بیت

    میر تقی میر کی ایک غزل
    13 جولائی, 2022

    وضع اِنساں میں مخفی ہیں

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    25 جون, 2020

    عاشق ترے لاکھوں ہوئے مجھ سا نہ پھر پیدا ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    3 ستمبر, 2024

    اک مہکتے گلاب جیسا ہے

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    12 فروری, 2020

    جس طرح رات میں سحر

    ایک اردو غزل از بلال اسعد
    3 جنوری, 2026

    جس دم ترے کوچے سے

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    سہنے کو رنج گنبدِ بے در میں آ گیا

    نسیم شاہانہ کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد

    میر تقی میر کی ایک غزل
    9 نومبر, 2025

    کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    ہر شخص یاں محبت کا

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    کیا خبر تھی پھر نیا وقتِ سفر آ جائے گا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    26 فروری, 2025

    تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی

    عدنان اثر کی ایک غزل
    16 جنوری, 2020

    زخم کھلتے ہیں

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button