18 ستمبر, 2026

    شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

    وصال عباسی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2025

    سچ کہوں خواب خواب ہے دنیا

    احمد ابصار کی ایک اردو غزل
    13 اپریل, 2020

    اب کہاں سانحہ نہیں ھوتا؟

    ایک اردو غزل از فاخرہ بتول
    27 جون, 2020

    جب بٹھاویں مجھے جلاد جفاکار کے پاس

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 دسمبر, 2020

    یہ کس نے کہا تم کوچ کرو

    ایک اردو غزل از قتیل شفائی
    27 ستمبر, 2025

    تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    بند کمرے میں کوئی میرے

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    10 نومبر, 2025

    میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    2 اپریل, 2020

    مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

    تہذیب حافی کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    اپنا ہونا بنا رہا ہوں میں

    طارق جاوید کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    دوستوں کے درمیاں ہوتے ہوئے

    سعید خان کی اردو غزل
    24 مارچ, 2020

    رُوئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    3 دسمبر, 2020

    جہاں پہ دوستی ہو اس جگہ انائیں کیا

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    6 نومبر, 2020

    یوں ہم سے نگاہیں نہ چرایا کرو جاناں !

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    29 دسمبر, 2024

    جو راستے سے بھی گزریں

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button